علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب ما جاء في ذبيحة المتردية
باب: اوپر سے نیچے گر جانے والے جانور کے ذبح کرنے کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 2825
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ.
ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ «متردی» ۱؎ اور «متوحش» ۲؎ کے ذبح کا طریقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصید 13 (1481)، سنن النسائی/الضحایا 24 (4413)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 9 (3184)، (تحفة الأشراف: 15694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/34)، دی/ الأضاحي 12 (2015) (منکر)» (اس کے راوی ابوالعشراء مجہول اعرابی ہیں ان کے والد بھی مجہول ہیں مگر صحابی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی جو جانور گر پڑے اور ذبح کی مہلت نہ ملے۔
۲؎: ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔
۲؎: ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1481) نسائي (4413) ابن ماجه (3184)
قال البخاري في أبي العشراء :’’ في حديثه واسمه وسماعه من أبيه نظر ‘‘ (التاريخ الكبير 2/ 22 ت 1557)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102
إسناده ضعيف
ترمذي (1481) نسائي (4413) ابن ماجه (3184)
قال البخاري في أبي العشراء :’’ في حديثه واسمه وسماعه من أبيه نظر ‘‘ (التاريخ الكبير 2/ 22 ت 1557)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مالك الداري | صحابي | |
👤←👥أبو العشراء الدارمي، أبو العشراء أبو العشراء الدارمي ← مالك الداري | مجهول | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← أبو العشراء الدارمي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله أحمد بن يونس التميمي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1481
| لو طعنت في فخذها لأجزأ عنك |
سنن أبي داود |
2825
| لو طعنت في فخذها لأجزأ عنك |
سنن ابن ماجه |
3184
| لو طعنت في فخذها لأجزأك |
سنن النسائى الصغرى |
4413
| لو طعنت في فخذها لأجزأك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2825 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2825
فوائد ومسائل:
روایت سندا اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم اضطراری کیفیت میں جب ذبح کی مہلت نہ ملے۔
اور کہیں سے بھی خون بہہ جائے۔
تو وہ ذبح کے معنی میں ہوگا۔
جیسے کہ شکار میں ہوتا ہے
روایت سندا اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم اضطراری کیفیت میں جب ذبح کی مہلت نہ ملے۔
اور کہیں سے بھی خون بہہ جائے۔
تو وہ ذبح کے معنی میں ہوگا۔
جیسے کہ شکار میں ہوتا ہے
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2825]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4413
گڈھے میں گر جانے والی بکری جس کی گردن نہیں پکڑی جا سکتی کا بیان۔
ابو العشراء کے والد (مالک دارمی رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح «ذکاۃ» صرف حلق اور سینے میں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4413]
ابو العشراء کے والد (مالک دارمی رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح «ذکاۃ» صرف حلق اور سینے میں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4413]
اردو حاشہ:
اصل تو یہی ہے کہ حلق میں ذبح کیا جائے اور سینے کے گڑھے میں نحر کیا جائے کیونکہ اس طریقے سے خون تیزی سے نکل جائے گا۔ یہاں بڑی رگیں ہوتی ہیں۔ مگر کبھی مجبوری بن جاتی ہے جیسا کہ باب میں بیان کی گئی ہے تو جہاں بھی زخم لگایا جا سکے، لگا دیا جائے تا کہ خون نکل جائے۔ یہ جائز ہے مگر یہ مجبوری کے وقت ہی ہے۔
اصل تو یہی ہے کہ حلق میں ذبح کیا جائے اور سینے کے گڑھے میں نحر کیا جائے کیونکہ اس طریقے سے خون تیزی سے نکل جائے گا۔ یہاں بڑی رگیں ہوتی ہیں۔ مگر کبھی مجبوری بن جاتی ہے جیسا کہ باب میں بیان کی گئی ہے تو جہاں بھی زخم لگایا جا سکے، لگا دیا جائے تا کہ خون نکل جائے۔ یہ جائز ہے مگر یہ مجبوری کے وقت ہی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4413]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1481
حلق اور لبہ (سینے کے اوپری حصہ) میں ذبح کرنے کا بیان۔
ابوالعشراء کے والد اسامہ بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ذبح (شرعی) صرف حلق اور لبہ ہی میں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اس کی ران میں بھی تیر مار دو تو کافی ہو گا“، یزید بن ہارون کہتے ہیں: یہ حکم ضرورت کے ساتھ خاص ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1481]
ابوالعشراء کے والد اسامہ بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ذبح (شرعی) صرف حلق اور لبہ ہی میں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اس کی ران میں بھی تیر مار دو تو کافی ہو گا“، یزید بن ہارون کہتے ہیں: یہ حکم ضرورت کے ساتھ خاص ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1481]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ”ابوالعشراء“ مجہول ہیں،
ان کے والد بھی مجہو ل ہیں مگر صحابی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ”ابوالعشراء“ مجہول ہیں،
ان کے والد بھی مجہو ل ہیں مگر صحابی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1481]
Sunan Abi Dawud Hadith 2825 in Urdu
أبو العشراء الدارمي ← مالك الداري