🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في المبالغة في الذبح
باب: ذبح میں غلو اور مبالغہ آمیزی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2826
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَى مَوْلَى ابن المبارك، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، زَادَ ابْنُ عِيسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ، زَادَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ وَهِيَ الَّتِي تُذْبَحُ فَيُقْطَعُ الْجِلْدُ وَلَا تُفْرَى الأَوْدَاجُ، ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّى تَمُوتَ.
عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «شريطة الشيطان» سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے: اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ (تڑپ تڑپ کر) مر جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/289) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عمرو بن عبد اللہ بن الاسوار ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: «شریط» کے معنی نشتر مارنے کے ہیں، یہ «شریط» حجامت سے ماخوذ ہے، اسی وجہ سے اسے «شریط» کہا گیا ہے، اور شیطان کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ شیطان ہی اسے اس عمل پر اکساتا ہے، اس میں جانور کو تکلیف ہوتی ہے، خون جلدی نہیں نکلتا اور اس کی جان تڑپ تڑپ کر نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن عبد اللّٰه بن الأسوار اليماني ضعيف ضعفه الجمهور والجرح مقدم
و انظرالتحرير (5060)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن عبد الله الأسواري، أبو الأسوار
Newعمرو بن عبد الله الأسواري ← عكرمة مولى ابن عباس
ضعيف الحديث
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عمرو بن عبد الله الأسواري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥الحسن بن عيسى الماسرجسي، أبو علي
Newالحسن بن عيسى الماسرجسي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← الحسن بن عيسى الماسرجسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2826
نهى رسول الله عن شريطة الشيطان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2826 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2826
فوائد ومسائل:

سندا روایت ضعیف ہے۔
لیکن مسئلہ اس طرح ہے کہ اس کا جانور حلال نہ ہوگا۔


حضرت شداد بن اوسرضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔
کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو باتیں یاد کیں۔
آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے۔
لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو۔
اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو، ذبح کرنے والے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی چھری تیز کرے۔
اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔
(صحیح مسلم الصید والذبائع باب الامر باحسان الذبح والقتل وتحدید الشفرۃ حدیث 1955) علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ذبح کرنے سے قبل چھری کو تیز کرنے کا اہتمام فرماتے تھے۔
حدیث کے الفاظ نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن شريطةِ الشيطانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے ذبیحہ سے منع فرمایا ہے۔
میں مذکور ذبیحہ جانور سے مراد ایسا جانور ہے۔
جس کا ذبح کرتے وقت زرا سا حلق کاٹ دیا۔
پوری رگیں نہ کاٹیں اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
جاہلیت کے زمانے میں مشرک ایسا ہی کرتے۔
چونکہ شیطان نے ان کو بھڑکایا تھا۔
اس لئے ایسے ذبیحہ کو شیطا ن کا ذبیحہ فرمایا۔
اور اس کے ایک معنی ابن عیسیٰ نے بھی بیان فرمائے ہیں۔
جو کہ حدیث میں مذکور ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2826]