🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في العقيقة
باب: عقیقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2841
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2841]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک مینڈھا ذبح کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6011)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العقیقة 3 (4224) (صحیح) لکن في روایة النسائي:’’کبشین کبشین‘‘، وھوالأصح» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سنن نسائی میں «کبشین کبشین» یعنی دو دو دنبے کی روایت ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن في رواية النسائي كبشين كبشين وهو الأصح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4155)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عمر التميمي، أبو معمر
Newعبد الله بن عمر التميمي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت قدري
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2841
عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا
سنن النسائى الصغرى
4224
عق رسول الله عن الحسن والحسين ما بكبشين كبشين
بلوغ المرام
1168
عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2841 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2841
فوائد ومسائل:
یہ حدیث بھی سند ا صحیح ہے۔
جب کہ سنن نسائی (حدیث۔
4224) میں دو دو مینڈھوں کا ذکر آیا ہے۔
شیخ البانی نے اسے زیادہ صحیح (أصح) قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں ارواء الغلیل (384۔
379/4) میں اس روایت کے تمام طرق پر بحث کر کے آخر میں اس رائے کا اظہار کیا ہے۔
کہ روایات دونوں ہی قسم کی ہیں۔
ایک ایک مینڈھے کی بھی اور دو دو مینڈھے کی۔
لیکن دو دو مینڈھے والی روایات دو وجہ سے راحج اور زیادہ قابل عمل ہیں۔
ایک تو اس میں زیادت ہے اور ثقہ راوی کی زیارت مقبول ہوتی ہے۔
دوسرے یہ کہ قولی روایات میں دو جانوروں کا ذکر ہے۔
تو یہ دوسری روایات قولی روایت کے موافق ہوجاتی ہیں۔
امام ابن القیم ؒ نے لکھا ہے۔
کہ قواعد شریعت کا اقتضاء بھی یہی ہے کہ لڑکے کے لئے دو جانور ذبح کیے جایئں۔
اس لئے کہ شریعت نے کئی احکام میں مرد کو عورت پر فضیلت عطا کی ہے۔
(تحفة المودود‘ ص:79‘ مطبوعة دارالکتاب العربي)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2841]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1168
عقیقہ کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے، ابن خزیمہ، ابن جارود اور عبدالحق نے اسے صحیح کہا ہے لیکن ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ نیز ابن حبان نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1168»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأضاحي، باب في العقيقة، حديث:2841، وهو في علل الحديث لا بن أبي حاتم:2 /49، حديث:1631، وحديث أنس: أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:1061 وهو حديث صحيح.»
تشریح:
وضاحت: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا مختصر تذکرہ کتاب الصلاۃ کے باب صفۃ الصلاۃ کے تحت ہو چکا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے اور ان سے تقریباً ایک سال چھوٹے تھے۔
دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کی خوشبو تھے۔
۶۱ ہجری عاشوراء کے دن سرزمین عراق کے میدان کربلا میں شہید ہوئے۔
اس وقت ان کی عمر ۵۴ سال تھی۔
محتاج تعارف نہیں ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1168]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4224
لڑکی کی طرف سے کتنی بکریاں ہوں؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4224]
اردو حاشہ:
روایات میں بکری‘ بھیڑ اور مینڈھے کا ذکر آیا ہے‘ لہٰذا عقیقے میں یہی جانور ذبح کرنے چاہئیں۔ گائے اور اونٹ کو عقیقہ میں ذبح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے‘ نیز عقیقے کو قربانی پر قیاس کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں کیونکہ قربانی سب لوگ معین دنوں میں کرتے ہیں جبکہ عقیقہ ہر گھرانہ اپنے بچے کی پیدائش سے ساتویں دن کرتا ہے۔ عقیقہ کی وضع ہی قربانی سے مختلف ہے۔ لڑکے کے عقیقے میں عقیقے میں صراحتاََ دو بکریاں ذبح کرنے کا ذکر ہے، اس لیے عقیقے میں بکرا، بکری بھیڑ اور مینڈھے وغیرہ ذبح کیے جائیں اور گائے، اونٹ ذبح نہ کیے جائیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4224]

Sunan Abi Dawud Hadith 2841 in Urdu