🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : كم يعق عن الجارية
باب: لڑکی کی طرف سے کتنی بکریاں ہوں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4224
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِكَبْشَيْنِ كَبْشَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6201)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الضحایا 21 (2841)، مسند احمد 5/7، 8، 12، 17، 18، 22) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن وحديث أبى داود (2841 وسنده صحيح) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥الحجاج بن الحجاج الباهلي
Newالحجاج بن الحجاج الباهلي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← الحجاج بن الحجاج الباهلي
ثقة
👤←👥حفص بن عبد الله السلمي، أبو سهل، أبو عمرو
Newحفص بن عبد الله السلمي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن حفص السلمي، أبو علي
Newأحمد بن حفص السلمي ← حفص بن عبد الله السلمي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2841
عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا
سنن النسائى الصغرى
4224
عق رسول الله عن الحسن والحسين ما بكبشين كبشين
بلوغ المرام
1168
عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4224 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4224
اردو حاشہ:
روایات میں بکری‘ بھیڑ اور مینڈھے کا ذکر آیا ہے‘ لہٰذا عقیقے میں یہی جانور ذبح کرنے چاہئیں۔ گائے اور اونٹ کو عقیقہ میں ذبح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے‘ نیز عقیقے کو قربانی پر قیاس کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں کیونکہ قربانی سب لوگ معین دنوں میں کرتے ہیں جبکہ عقیقہ ہر گھرانہ اپنے بچے کی پیدائش سے ساتویں دن کرتا ہے۔ عقیقہ کی وضع ہی قربانی سے مختلف ہے۔ لڑکے کے عقیقے میں عقیقے میں صراحتاََ دو بکریاں ذبح کرنے کا ذکر ہے، اس لیے عقیقے میں بکرا، بکری بھیڑ اور مینڈھے وغیرہ ذبح کیے جائیں اور گائے، اونٹ ذبح نہ کیے جائیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4224]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1168
عقیقہ کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے، ابن خزیمہ، ابن جارود اور عبدالحق نے اسے صحیح کہا ہے لیکن ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ نیز ابن حبان نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1168»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأضاحي، باب في العقيقة، حديث:2841، وهو في علل الحديث لا بن أبي حاتم:2 /49، حديث:1631، وحديث أنس: أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:1061 وهو حديث صحيح.»
تشریح:
وضاحت: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا مختصر تذکرہ کتاب الصلاۃ کے باب صفۃ الصلاۃ کے تحت ہو چکا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے اور ان سے تقریباً ایک سال چھوٹے تھے۔
دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کی خوشبو تھے۔
۶۱ ہجری عاشوراء کے دن سرزمین عراق کے میدان کربلا میں شہید ہوئے۔
اس وقت ان کی عمر ۵۴ سال تھی۔
محتاج تعارف نہیں ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1168]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2841
عقیقہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2841]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث بھی سند ا صحیح ہے۔
جب کہ سنن نسائی (حدیث۔
4224) میں دو دو مینڈھوں کا ذکر آیا ہے۔
شیخ البانی نے اسے زیادہ صحیح (أصح) قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں ارواء الغلیل (384۔
379/4) میں اس روایت کے تمام طرق پر بحث کر کے آخر میں اس رائے کا اظہار کیا ہے۔
کہ روایات دونوں ہی قسم کی ہیں۔
ایک ایک مینڈھے کی بھی اور دو دو مینڈھے کی۔
لیکن دو دو مینڈھے والی روایات دو وجہ سے راحج اور زیادہ قابل عمل ہیں۔
ایک تو اس میں زیادت ہے اور ثقہ راوی کی زیارت مقبول ہوتی ہے۔
دوسرے یہ کہ قولی روایات میں دو جانوروں کا ذکر ہے۔
تو یہ دوسری روایات قولی روایت کے موافق ہوجاتی ہیں۔
امام ابن القیم ؒ نے لکھا ہے۔
کہ قواعد شریعت کا اقتضاء بھی یہی ہے کہ لڑکے کے لئے دو جانور ذبح کیے جایئں۔
اس لئے کہ شریعت نے کئی احکام میں مرد کو عورت پر فضیلت عطا کی ہے۔
(تحفة المودود‘ ص:79‘ مطبوعة دارالکتاب العربي)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2841]