سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب في إقطاع الأرضين
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحُنَيْنِيَّ، قَالَ: قَرَأْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ يَعْنِي كِتَابَ قَطِيعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد:وحَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا، قَالَ ابْنُ النَّضْرِ: وَجَرْسَهَا وَذَاتَ النُّصُبِ، ثُمَّ اتَّفَقَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ حَقَّ مُسْلِمٍ، وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ، قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، زَادَ ابْنُ النَّضْرِ، وَكَتَبَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ.
محمد بن نضر کہتے ہیں کہ میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں: مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں۔ ابن نضر کی روایت میں ہے: اور اس کے جرس اور ذات النصب ۱؎ کو دیا، پھر دونوں راوی متفق ہیں: اور قدس کی قابل کاشت زمین دی، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کر دی، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ (یہ دستاویز) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3063]
(اسحاق بن ابراہیم الحنینی) الحنینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط (بلال بن حارث کی) جاگیر کے متعلق کئی بار پڑھا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں کئی ایک نے حسین بن محمد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابواویس نے خبر دی، اس نے کہا: مجھے کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اس کے دادا سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو مقام قبل کی کانیں ان کی بالائی اور زیریں جانب، راوی حدیث ابن نضر نے مقام جرس اور ذات النصب کا بھی ذکر کیا..... اور قدس پہاڑ کی وہ زمین جو کاشت کے قابل ہے، وہ سب انہیں دیں اور انہیں کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ تحریر عنایت فرمائی: ”یہ وہ عطیہ ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا ہے۔ اسے مقام قبل کی کانیں ان کی بالائی جانب، زیریں جانب اور قدس پہاڑ کی زمین جو قابل کاشت ہے عطا کی ہیں، کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دیا ہے۔““ ابواویس نے کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10777) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دو جگہوں کے نام ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین کی قسموں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وأخرجه البيھقي (6/151 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3062 من طريق ثور بن زيد وسنده حسن)
وأخرجه البيھقي (6/151 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3062 من طريق ثور بن زيد وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3063
| أقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية جلسيها وغوريها قال ابن النضر وجرسها وذات النصب ثم اتفقا وحيث يصلح الزرع من قدس ولم يعط بلال بن الحارث حق مسلم وكتب له النبي هذا ما أعطى رسول الله بلال بن الحارث المزني أعطاه معادن القبلية جلسها وغورها وحيث يصلح الز |
Sunan Abi Dawud Hadith 3063 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي