الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في عسب الفحل
باب: نر سے جفتی کرانے کی اجرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3429
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإجارة 21 (2284)، سنن الترمذی/البیوع 45 (1273)، سنن النسائی/البیوع 92 (4675)، (تحفة الأشراف: 8233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/14) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ مادہ کے حاملہ اور غیر حاملہ ہونے دونوں کا شبہ ہے اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2284)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2284
| نهى عن عسب الفحل |
جامع الترمذي |
1273
| نهى عن عسب الفحل |
سنن أبي داود |
3429
| نهى عن عسب الفحل |
سنن النسائى الصغرى |
4675
| نهى عن عسب الفحل |
بلوغ المرام |
661
| نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن عسب الفحل |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3429 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3429
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
مویشی پالنے والے جانتے ہیں۔
کہ چراگاہوں میں ریوڑوں کے ریوڑ چرتے پھرتے ہیں اور فطری طریقے پر جانوروں کا ملاپ ہوتا رہتا ہے۔
اس عمل کی اجرت یا قیمت نہ طے ہوسکتی ہے، نہ اس کی اجرت وصول کرنے کی غرض سے جانوروں کو فطری ملاپ سے روکنا روا ہے۔
حدیث مبارک مادہ جانوروں کا حق ہے۔
کہ نر جانور ان سے ملاپ کریں۔
(صحیح مسلم، حدیث: 988) اسی چیز پردلالت کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قیمت پر یا اجرت طلب کرنے پر منع فرمایا ہے۔
البتہ ایک صحابی نے جب اصرار سے پوچھا کہ ہم جب (طلب کرنے پر) اپنا نر جانور لے جاتے ہیں۔
تو وہاں ہمارا اکرام کیا جاتا ہے۔
اور کچھ نہ کچھ ہدیہ پیش کیا جاتا ہے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
اس اجازت سے پتہ چلتا ہے کہ باقاعدہ خریدوفروخت سے ہٹ کر جانور رکھنے والوں کی سہولت کےلئے لین دین کا جو رواج موجود ہے۔
اسے ختم کرکے سسٹم کو خراب کرنا مقصود نہیں۔
چراگاہوں کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر بعض اوقات نرجانور آسانی سے دستیاب نہیں ہوسکتے۔
اس صورت کو سامنے رکھ کر امام مالک نے نسل کے زیاں سے بچنے کےلئے اس کی اجازت دی ہے۔
(فتح الباري:582/4) جب سے جانوروں کے مالکوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ دودھ وغیرہ کے حصول کےلئے اچھی نسل کے جانوروں کی پیدائش ضروری ہے۔
تو اچھی نسل کے نروں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
بلکہ اب تو مصنوعی نسل کشی کا جدید طریقہ رائج ہوگیا ہے۔
اب اچھی نسل کے نراسی غرض سے پالے جاتے ہیں۔
ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔
اور ان سے حاصل ہونے والے مادے سے مصنوعی طور پر نسل کشی کی جاتی ہے۔
اگر اس کےلئے باقاعدہ قیمت یا اجرت کا تعین کرنے کی بجائے اکرام کے تحت لین دین کا طریقہ رائج ہوجائے۔
تو شرعا اس پراعتراض نہیں ہوگا۔
قدیم فقہاء اور مفسرین نے ملاپ کے عمل پر اجرت یا قیمت نہ لینے کی یہ وجہ ذکر کی ہے۔
کہ جس چیز کی اجرت لی جا رہی ہے۔
اس کی نہ مقدار کا تعین ہوسکتا ہے۔
نہ اس کی فراہمی یقینی ہوتی ہے۔
اس لئے یہ غیر معلوم اور غیر معلوم اور غیر یقینی چیز کی اجرت ہوگی۔
جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔
اگر حرمت کی یہ وجہ صحیح تسلیم کرلی جائے۔
تو مصنوعی طریقوں کی وجہ سے اب یہ غیر معلوم اور غیر یقینی چیز نہیں رہی۔
جدید تکنیک کے ذریعے سے باقاعدہ متعین مقدار میں نر جانور کا مواد مادہ جانور کے رحم میں داخل کردیا جاتا ہے۔
اس طرح تو اجرت کا بھی جواز پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے۔
کہ خود مصنوعی نسل کشی شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواز پر تابیر (کھجور کے پھل دینے والے درختوں پر نرکھجور کا بورلاکر ڈالنا) کی حدیث سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو پیداوارحاصل کرنے کے اس مصنوعی طریقے کو آپ نے فطری طورپر ناپسند فرمایا اور اس سے روک دیا لیکن جب معلوم ہوا کہ اس سے کھجوروں کی پیدا وار کم ہوگئی ہے۔
تو آپ نے باقاعدہ اس کی اجازت دے دی۔
اس حدیث کی رو سے نرکا مواد مصنوعی طریقے سے مادہ تک پہنچانے کا طریقہ اختیار کرنے کی اجازت موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تجارتی طریقوں کی بجائے فطری طریقوں کورائج کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ رفاہ عامہ کی غرض سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اعلیٰ نسل کے نر جانوروں کا انتظام کریں تاکہ فطری طریقوں سے اعلیٰ نسل کے جانور حاصل ہوں اور لوگ تجارتی بنیادوں پراس کا انتطام کرنے کی مجبوری سے بچ جایئں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے حق کے حوالے سے جو اشارہ فرمایا ہے۔
وہ رفق بالحیوانات (جانوروں سے نرمی کا سلوک کرنا) کی بہترین مثال ہے۔
ان حقوق کو پورا کرنے کی بھی یہی صورت ہے کہ حکومتیں بڑے پیمانے پر اعلیٰ نسل کے نر جانوروں کا انتظام کریں۔
فائدہ۔
مویشی پالنے والے جانتے ہیں۔
کہ چراگاہوں میں ریوڑوں کے ریوڑ چرتے پھرتے ہیں اور فطری طریقے پر جانوروں کا ملاپ ہوتا رہتا ہے۔
اس عمل کی اجرت یا قیمت نہ طے ہوسکتی ہے، نہ اس کی اجرت وصول کرنے کی غرض سے جانوروں کو فطری ملاپ سے روکنا روا ہے۔
حدیث مبارک مادہ جانوروں کا حق ہے۔
کہ نر جانور ان سے ملاپ کریں۔
(صحیح مسلم، حدیث: 988) اسی چیز پردلالت کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قیمت پر یا اجرت طلب کرنے پر منع فرمایا ہے۔
البتہ ایک صحابی نے جب اصرار سے پوچھا کہ ہم جب (طلب کرنے پر) اپنا نر جانور لے جاتے ہیں۔
تو وہاں ہمارا اکرام کیا جاتا ہے۔
اور کچھ نہ کچھ ہدیہ پیش کیا جاتا ہے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
اس اجازت سے پتہ چلتا ہے کہ باقاعدہ خریدوفروخت سے ہٹ کر جانور رکھنے والوں کی سہولت کےلئے لین دین کا جو رواج موجود ہے۔
اسے ختم کرکے سسٹم کو خراب کرنا مقصود نہیں۔
چراگاہوں کو چھوڑ کر باقی جگہوں پر بعض اوقات نرجانور آسانی سے دستیاب نہیں ہوسکتے۔
اس صورت کو سامنے رکھ کر امام مالک نے نسل کے زیاں سے بچنے کےلئے اس کی اجازت دی ہے۔
(فتح الباري:582/4) جب سے جانوروں کے مالکوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ دودھ وغیرہ کے حصول کےلئے اچھی نسل کے جانوروں کی پیدائش ضروری ہے۔
تو اچھی نسل کے نروں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
بلکہ اب تو مصنوعی نسل کشی کا جدید طریقہ رائج ہوگیا ہے۔
اب اچھی نسل کے نراسی غرض سے پالے جاتے ہیں۔
ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔
اور ان سے حاصل ہونے والے مادے سے مصنوعی طور پر نسل کشی کی جاتی ہے۔
اگر اس کےلئے باقاعدہ قیمت یا اجرت کا تعین کرنے کی بجائے اکرام کے تحت لین دین کا طریقہ رائج ہوجائے۔
تو شرعا اس پراعتراض نہیں ہوگا۔
قدیم فقہاء اور مفسرین نے ملاپ کے عمل پر اجرت یا قیمت نہ لینے کی یہ وجہ ذکر کی ہے۔
کہ جس چیز کی اجرت لی جا رہی ہے۔
اس کی نہ مقدار کا تعین ہوسکتا ہے۔
نہ اس کی فراہمی یقینی ہوتی ہے۔
اس لئے یہ غیر معلوم اور غیر معلوم اور غیر یقینی چیز کی اجرت ہوگی۔
جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔
اگر حرمت کی یہ وجہ صحیح تسلیم کرلی جائے۔
تو مصنوعی طریقوں کی وجہ سے اب یہ غیر معلوم اور غیر یقینی چیز نہیں رہی۔
جدید تکنیک کے ذریعے سے باقاعدہ متعین مقدار میں نر جانور کا مواد مادہ جانور کے رحم میں داخل کردیا جاتا ہے۔
اس طرح تو اجرت کا بھی جواز پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے۔
کہ خود مصنوعی نسل کشی شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواز پر تابیر (کھجور کے پھل دینے والے درختوں پر نرکھجور کا بورلاکر ڈالنا) کی حدیث سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو پیداوارحاصل کرنے کے اس مصنوعی طریقے کو آپ نے فطری طورپر ناپسند فرمایا اور اس سے روک دیا لیکن جب معلوم ہوا کہ اس سے کھجوروں کی پیدا وار کم ہوگئی ہے۔
تو آپ نے باقاعدہ اس کی اجازت دے دی۔
اس حدیث کی رو سے نرکا مواد مصنوعی طریقے سے مادہ تک پہنچانے کا طریقہ اختیار کرنے کی اجازت موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تجارتی طریقوں کی بجائے فطری طریقوں کورائج کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ رفاہ عامہ کی غرض سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اعلیٰ نسل کے نر جانوروں کا انتظام کریں تاکہ فطری طریقوں سے اعلیٰ نسل کے جانور حاصل ہوں اور لوگ تجارتی بنیادوں پراس کا انتطام کرنے کی مجبوری سے بچ جایئں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے حق کے حوالے سے جو اشارہ فرمایا ہے۔
وہ رفق بالحیوانات (جانوروں سے نرمی کا سلوک کرنا) کی بہترین مثال ہے۔
ان حقوق کو پورا کرنے کی بھی یہی صورت ہے کہ حکومتیں بڑے پیمانے پر اعلیٰ نسل کے نر جانوروں کا انتظام کریں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3429]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1273
نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1273]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1273]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چونکہ مادہ کا حاملہ ہونا قطعی نہیں ہے،
حمل قرارپانے اور نہ پانے دونوں کا شبہ ہے اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
1؎:
چونکہ مادہ کا حاملہ ہونا قطعی نہیں ہے،
حمل قرارپانے اور نہ پانے دونوں کا شبہ ہے اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1273]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2284
2284. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جفتی کرانے کا معاوضہ لینے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2284]
حدیث حاشیہ:
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک ریوڑ والا اپنی ضرورت کے پیش نظر دوسرے ریوڑ والے سے سانڈ مانگے اور وہ اجرت لیے بغیر سانڈ نہ دے بلکہ اس پر کرایہ وصول کرے، اجارے کی یہ صورت ناجائز اور حرام ہے۔
ہاں،عاریتاً نر جانور کا دینا جائز ہے کیونکہ اسے بھی ناجائز قرار دیا جائے تو اس سے نسل ختم ہونے کا اندیشہ ہے، اسی طرح اگر مادہ والا غیر مشروط طور پر نر والے کو ہدیہ کے طور پر کچھ دے تو اس کے لینے میں کوئی قباحت نہیں، البتہ جفتی کرانے کا کرایہ وصول کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے معلوم نہیں کہ مادہ جفتی سے بار آور ہوتی ہے یا نہیں،نیز حیوان کا نطفہ کوئی قیمتی چیز نہیں اور نہ اس کا دینا کسی کے بس میں ہے۔
(فتح الباري: 582/4)
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک ریوڑ والا اپنی ضرورت کے پیش نظر دوسرے ریوڑ والے سے سانڈ مانگے اور وہ اجرت لیے بغیر سانڈ نہ دے بلکہ اس پر کرایہ وصول کرے، اجارے کی یہ صورت ناجائز اور حرام ہے۔
ہاں،عاریتاً نر جانور کا دینا جائز ہے کیونکہ اسے بھی ناجائز قرار دیا جائے تو اس سے نسل ختم ہونے کا اندیشہ ہے، اسی طرح اگر مادہ والا غیر مشروط طور پر نر والے کو ہدیہ کے طور پر کچھ دے تو اس کے لینے میں کوئی قباحت نہیں، البتہ جفتی کرانے کا کرایہ وصول کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے معلوم نہیں کہ مادہ جفتی سے بار آور ہوتی ہے یا نہیں،نیز حیوان کا نطفہ کوئی قیمتی چیز نہیں اور نہ اس کا دینا کسی کے بس میں ہے۔
(فتح الباري: 582/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2284]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي