سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في الحبس في الدين وغيره
باب: قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3630
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ".
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3630]
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت (شبہ) میں قید کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 21 (1417)، سنن النسائی/قطع السارق 2 (4890)، (تحفة الأشراف: 11382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/2، 4، 4/447) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3785)
أخرجه الترمذي (1417 وسنده حسن) ورواه النسائي (4879، 4880 وسندھما حسن) عبد الرزاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (1003)
مشكوة المصابيح (3785)
أخرجه الترمذي (1417 وسنده حسن) ورواه النسائي (4879، 4880 وسندھما حسن) عبد الرزاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (1003)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1417
| حبس رجلا في تهمة ثم خلى عنه |
سنن أبي داود |
3630
| حبس رجلا في تهمة |
سنن النسائى الصغرى |
4880
| حبس ناسا في تهمة |
سنن النسائى الصغرى |
4880
| حبس رجلا في تهمة ثم خلى سبيله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3630 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3630
فوائد ومسائل:
فائدہ: جس شخص پر الزام ہو مگر حقیقت واضح نہ ہو تو اسے حقیقت واضح ہونے تک تحقیق کی غرض سے مختصر وقت کے لئے قید کرنا جائز ہے۔
تاہم قید کاعرصہ بلاوجہ غیر معمولی طور پر لمبا کرنا (جیسا کہ آج کل معمول ہے۔
) شرعا ً محل نظر ہے، اس سے بہت سے مفاسد جنم لیتے ہیں۔
فائدہ: جس شخص پر الزام ہو مگر حقیقت واضح نہ ہو تو اسے حقیقت واضح ہونے تک تحقیق کی غرض سے مختصر وقت کے لئے قید کرنا جائز ہے۔
تاہم قید کاعرصہ بلاوجہ غیر معمولی طور پر لمبا کرنا (جیسا کہ آج کل معمول ہے۔
) شرعا ً محل نظر ہے، اس سے بہت سے مفاسد جنم لیتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3630]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1417
کسی تہمت و الزام میں گرفتار کرنے کا بیان۔
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر (الزام ثابت نہ ہونے پر) اس کو رہا کر دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1417]
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر (الزام ثابت نہ ہونے پر) اس کو رہا کر دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1417]
اردو حاشہ:
وضاخت:
1؎:
اس تہمت اورالزام کے کئی سبب ہوسکتے ہیں:
اس نے جھوٹی گواہی دی ہوگی،
یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعوی پیش کیا ہوگا،
یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہوگا،
پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا ہو گا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید وبند کرنا ایک شرعی امر ہے۔
2؎:
پوری حدیث کے لیے دیکھئے سنن ابی داؤد حوالہ ٔ مذکور۔
وضاخت:
1؎:
اس تہمت اورالزام کے کئی سبب ہوسکتے ہیں:
اس نے جھوٹی گواہی دی ہوگی،
یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعوی پیش کیا ہوگا،
یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہوگا،
پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا ہو گا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید وبند کرنا ایک شرعی امر ہے۔
2؎:
پوری حدیث کے لیے دیکھئے سنن ابی داؤد حوالہ ٔ مذکور۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1417]
Sunan Abi Dawud Hadith 3630 in Urdu
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري