سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الطيرة
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3923
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ".
فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/451) (ضعیف الإسناد)» (فروة کے شاگرد مبہم ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن عبد اللّٰه بن بحير : مستور (تق : 7579) وشيخه مجهول لم يسم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
إسناده ضعيف
يحيي بن عبد اللّٰه بن بحير : مستور (تق : 7579) وشيخه مجهول لم يسم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3923
| دعها عنك فإن من القرف التلف |
اسم مبهم ← فروة بن مسيك المرادي