سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ
باب: جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3949
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يُحَدِّثْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَقَدْ شَكَّ فِيهِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3949]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جیسے کہ حماد کا خیال ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے محرم رشتہ دار کا مالک بن گیا ہو تو وہ آزاد ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”محمد بن بکر برسانی نے بواسطہ حماد بن سلمہ، قتادہ سے، اور عاصم نے بواسطہ حسن بصری، سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کے مثل روایت کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے (مرفوع یا متصل) بیان کیا ہے اور اس میں اسے شک بھی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام 28 (1365)، سنن ابن ماجہ/العتق 5 (2524)، (تحفة الأشراف: 18534، 18469، 185469)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (4898، 4899)، مسند احمد (5/15، 18، 20) (صحیح)» (متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ثقات نے مرفوعاً روایت کرنے میں حماد کی مخالفت کی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3393)
قتادة تابعه عاصم الأحول عند الترمذي (1365)
مشكوة المصابيح (3393)
قتادة تابعه عاصم الأحول عند الترمذي (1365)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمان | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← قتادة بن دعامة السدوسي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← موسى بن إسماعيل التبوذكي | ثقة مأمون |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1365
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
سنن أبي داود |
3949
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
سنن ابن ماجه |
2524
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
بلوغ المرام |
1224
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3949 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3949
فوائد ومسائل:
(1) حسن بصری کا حضرت سمرہ بن جندب سے سماع ثابت ہونے میں ائمہ حدیث کا اختلاف ہے۔
تاہم یہ حدیث حسن اور بقول بعض صیح ہے۔
(2ْ) (ذا رحمٍ محرمٍ) سے یہاں مردا باپ، داد اور اولاد اور ان کی اولاد ہے۔
ان میں ملکیت ثابت ہوتے ہی یہ ازخود آزاد ہوجائیں گے، البتہ دیگر رشتہ داروں کے بارے میں اختلاف ہے۔
(1) حسن بصری کا حضرت سمرہ بن جندب سے سماع ثابت ہونے میں ائمہ حدیث کا اختلاف ہے۔
تاہم یہ حدیث حسن اور بقول بعض صیح ہے۔
(2ْ) (ذا رحمٍ محرمٍ) سے یہاں مردا باپ، داد اور اولاد اور ان کی اولاد ہے۔
ان میں ملکیت ثابت ہوتے ہی یہ ازخود آزاد ہوجائیں گے، البتہ دیگر رشتہ داروں کے بارے میں اختلاف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3949]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1224
(آزادی کے متعلق احادیث)
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص کسی قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ غلام آزاد ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اسے موقوف قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1224»
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص کسی قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ غلام آزاد ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اسے موقوف قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1224»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب فيمن مالك ذا رحم محرم، حديث:3949، والترمذي، الأحكام، حديث:1365، وابن ماجه، الأحكام، حديث:2524، والنسائي في الكبرٰي:3 /173، حديث:4898، 4902، وأحمد:5 /20.» تشریح:
یہ حدیث بقول محدثین موقوف ہے مگر اس باب میں اور احادیث بھی مروی ہیں جن میں سے ایک کو ابن قطان اور ابن حزم نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کی رو سے جن تعلق داروں کا باہم نکاح نہیں ہو سکتا ان میں غلامی اور آقائی کا تعلق بھی نہیں رہ سکتا۔
(سبل السلام)
«أخرجه أبوداود، العتق، باب فيمن مالك ذا رحم محرم، حديث:3949، والترمذي، الأحكام، حديث:1365، وابن ماجه، الأحكام، حديث:2524، والنسائي في الكبرٰي:3 /173، حديث:4898، 4902، وأحمد:5 /20.»
یہ حدیث بقول محدثین موقوف ہے مگر اس باب میں اور احادیث بھی مروی ہیں جن میں سے ایک کو ابن قطان اور ابن حزم نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کی رو سے جن تعلق داروں کا باہم نکاح نہیں ہو سکتا ان میں غلامی اور آقائی کا تعلق بھی نہیں رہ سکتا۔
(سبل السلام)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1224]
Sunan Abi Dawud Hadith 3949 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري