🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب في عتق ولد الزنا
باب: جو غلام یا لونڈی ولد الزنا ہو اس کو آزاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3963
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ"، وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12601)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/311) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3963
ولد الزنا شر الثلاثة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3963 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3963
فوائد ومسائل:
زنا زادے کا برا ہونا اسی صورت میں ہے جب وہ ماں باپ کی مانند بدکاری جیسےقبیح اعمال کرے۔
ورنہ اس میں اس کا کوئی جرم نہیں اور عام شرعی قائدہ یہ ہےکہ (عربی) کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی نیز اس حدیث کا ورود ایک خاص واقع ہے کہ ایک منافق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیا کرتا تھا تو اس موقع پر آپ کو بتا یا گیا کہ وہ زنا زادہ ہے۔
تب آپ نے مذکورہ بالابات کہی۔
تفصیل کےلئے دیکھیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3963]