سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 4005
حَدَّثَنَا هَنَادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ:" إِنَّ أُنَاسًا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: 0 وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ 0، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ: وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23".
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4005]
جناب شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ لوگ یہ آیت کریمہ ﴿قَالَتْ هِيتَ لَكَ﴾ [سورة يوسف: 23] پڑھتے ہیں (یعنی ”ھا“ کے زیر کے ساتھ) تو انہوں نے کہا: ”بلاشبہ مجھے اسی طرح پڑھنا زیادہ محبوب ہے جیسے کہ مجھے سکھایا گیا ہے ﴿وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ﴾ [سورة يوسف: 23] “ (یعنی ”ھا“ پر زبر کے ساتھ)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4004)
انظر الحديث السابق (4004)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4005 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4005
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے معلم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اسی بےمثل اطاعت کی بنا پر ہی اللہ عزوجل کی طرف سےانہیں رضی اللہ عنہم کا لقب ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے معلم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اسی بےمثل اطاعت کی بنا پر ہی اللہ عزوجل کی طرف سےانہیں رضی اللہ عنہم کا لقب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4005]
Sunan Abi Dawud Hadith 4005 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود