سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 4006
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِبَنِي إِسْرَائِيلَ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ}".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» ”اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے (سورۃ البقرہ: ۵۸) ۱؎“ (بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4006]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے بنو اسرائیل سے فرمایا: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ﴾ [سورة البقرة: 58] یعنی «تُغْفَرْ» ”تا“ کے ضمہ سے بصیغہ واحد مؤنث غائب مجہول۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4180) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «تُغْفَرُ» بصیغہ واحد مؤنث غائب مضارع مجہول مشہور قرات جمع متکلم مضارع معروف کے صیغے کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وله شاھد في صحيفة همام بن منبه (116) ومن طريقه أخرجه البخاري (3403) ومسلم (3015)
وله شاھد في صحيفة همام بن منبه (116) ومن طريقه أخرجه البخاري (3403) ومسلم (3015)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4006
| ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4006 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4006
فوائد ومسائل:
جمہور کی معروف قراءت (نَغُفِرُلَکُم) ہے۔
یعنی نون کے فتحہ سے بصیغہ جمع متکلم)۔
اس صورت میں معنی ہوں گے۔
سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہوجاو اور لفظ (عربی میں ہے) پکارتے جاو ہم تمہاری خطائیں معاف کرتے دیں گے۔
جمہور کی معروف قراءت (نَغُفِرُلَکُم) ہے۔
یعنی نون کے فتحہ سے بصیغہ جمع متکلم)۔
اس صورت میں معنی ہوں گے۔
سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہوجاو اور لفظ (عربی میں ہے) پکارتے جاو ہم تمہاری خطائیں معاف کرتے دیں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4006]
Sunan Abi Dawud Hadith 4006 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري