سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب النهى عن التعري
باب: ننگا ہونا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4015
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْشِفْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ نَكَارَةٌ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں نکارت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:(3140)، (تحفة الأشراف: 10133) (ضعیف جدّاً)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (3140)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
إسناده ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (3140)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3140
| لا تنظرن إلى فخذ حي ولا ميت |
سنن أبي داود |
4015
| لا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت |
سنن ابن ماجه |
1460
| لا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4015 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4015
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ عذر شرعی کے بغیر ران ننگی کرنا یا کسی کی ران دیکھنا جائز نہیں ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ عذر شرعی کے بغیر ران ننگی کرنا یا کسی کی ران دیکھنا جائز نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4015]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1460
میت کو غسل دینے کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ٹانگ کا گھٹنے سےاوپر کا حصہ فخد (ران)
کہلاتا ہے۔
اور اس سے متعلق یہ (1460)
روایت ضعیف ہے۔
اسی لئے اس کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل ہے یا نہیں اور کسی کی ران کو دیکھنا شرعا جائز ہے یا ممنوع۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل تو نہیں تاہم اسے چھپانا افضل ہے۔
اس کے بارے میں اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔
ابن عباس جرہد اور محمد بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ران ستر ہے۔
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑاہٹا دیا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سند کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔
اور حضرت جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔
تاکہ علماء کے اختلاف سے نکل جایئں۔
۔
۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب مایذکر فی الفخذ، قبل حدیث: 371)
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے احکام الجنائز میں ران کے ستر ہونے کو ترجیح دی ہے۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (اِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ)
ران ستر ہے والی حدیث کو حسن قرار دیاہے۔ (جامع ترمذي، الأدب، باب ما جاء ان الفخذ عورۃ، حدیث: 2795)
فوائد و مسائل:
(1)
ٹانگ کا گھٹنے سےاوپر کا حصہ فخد (ران)
کہلاتا ہے۔
اور اس سے متعلق یہ (1460)
روایت ضعیف ہے۔
اسی لئے اس کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل ہے یا نہیں اور کسی کی ران کو دیکھنا شرعا جائز ہے یا ممنوع۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے۔
کہ یہ ستر میں شامل تو نہیں تاہم اسے چھپانا افضل ہے۔
اس کے بارے میں اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے۔
ابن عباس جرہد اور محمد بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ران ستر ہے۔
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑاہٹا دیا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سند کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔
اور حضرت جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔
تاکہ علماء کے اختلاف سے نکل جایئں۔
۔
۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب مایذکر فی الفخذ، قبل حدیث: 371)
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے احکام الجنائز میں ران کے ستر ہونے کو ترجیح دی ہے۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (اِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَۃٌ)
ران ستر ہے والی حدیث کو حسن قرار دیاہے۔ (جامع ترمذي، الأدب، باب ما جاء ان الفخذ عورۃ، حدیث: 2795)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1460]
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي