علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب في لبس الصوف والشعر
باب: اونی اور بال والے کپڑے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4033
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي:" يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4033]
جناب ابوبردہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”اے بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہم پر بارش ہو جاتی تو تم سمجھتے کہ ہم سے بھیڑوں کی سی بو آتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”مقصد ہے کہ اون کے لباس کی وجہ سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 38 (2479)، سنن ابن ماجہ/اللباس 4 (3562)، (تحفة الأشراف: 9126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/407، 419) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2479) ابن ماجه (3562)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
إسناده ضعيف
ترمذي (2479) ابن ماجه (3562)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4033
| ريحنا ريح الضأن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4033 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4033
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندًا ضعیف ہے، تاہم اون کا لباس پہننا جائز ہے، لیکن اگر نیت یہ ہو کہ لوگوں کے سامنے اپنی صوفیت کا اظہار ہو تو حرام ہے۔
یہ روایت سندًا ضعیف ہے، تاہم اون کا لباس پہننا جائز ہے، لیکن اگر نیت یہ ہو کہ لوگوں کے سامنے اپنی صوفیت کا اظہار ہو تو حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4033]
Sunan Abi Dawud Hadith 4033 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري