سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في لبس الحرير
باب: حریر (ریشم) پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4041
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: حُلَّةُ إِسْتَبْرَقٍ، وَقَالَ: فِيهِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، وَقَالَ: تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں ”دھاری دار ریشمی جوڑے“ کے بجائے ”موٹے ریشم کا جوڑا ہے“ نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: ”اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4041]
جناب سالم اپنے والد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کرتے ہیں انہوں نے ( «حُلَّةَ سِيَرَاءَ» کی بجائے) «حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ» کہا۔ (استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں) اس روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیباج (باریک ریشم) کا ایک حلہ بھجوایا اور فرمایا: ”اسے فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کر لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1077)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2054) صحيح مسلم (2068)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4041 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4041
فوائد ومسائل:
ریشم موٹا ہو یا باریک سب کا حکم ایک ہے اور نبی ؐ نے اسے فروخت کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ فی نفسہ وہ حلال تھا، گو مردوں کے لئے اسے پہننا حرام تھا گویا ایسی چیزیں جو ایک اعتبار سے حلال اور ایک اعتبار سے حرام ہوں ام کی تجارت جائز ہے۔
ریشم موٹا ہو یا باریک سب کا حکم ایک ہے اور نبی ؐ نے اسے فروخت کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ فی نفسہ وہ حلال تھا، گو مردوں کے لئے اسے پہننا حرام تھا گویا ایسی چیزیں جو ایک اعتبار سے حلال اور ایک اعتبار سے حرام ہوں ام کی تجارت جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4041]
Sunan Abi Dawud Hadith 4041 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي