🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب من كرهه
باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4048
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ، قَالَ: وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ، قَالَ: وَقَالَ: أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ"، قَالَ سَعِيدٌ: أُرَهُ، قَالَ: إِنَّمَا حَمَلُوا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَاءِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا فَلْتَطَّيَّبْ بِمَا شَاءَتْ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ گدوں (زین پوشوں) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو۔ سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4048]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ رنگ کی ارغوانی زین پر سوار نہیں ہوتا، نہ زرد رنگ کا لباس پہنتا ہوں اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس کی آستینیں ریشم سے گاڑھی گئی ہوں۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے روایت بیان کرنے کے دوران میں اپنی قمیص کے دامن کی طرف اشارہ کیا اور مزید کہا: خبردار! مردوں کی خوشبو (زینت) میں مہک ہوتی ہے رنگ نہیں ہوتا اور خبردار! عورتوں کی خوشبو (زینت) میں رنگ ہوتا ہے مہک نہیں ہوتی۔ سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے کہا: محدثین کرام عورتوں کی خوشبو کے متعلق مذکورہ فرمان کو اس معنی میں لیتے ہیں کہ جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو ایسی خوشبو نہ لگائیں جو مہک والی ہو (کہ دوسروں کو ان کی طرف متوجہ کرے)، لیکن جب اپنے شوہر کے پاس ہو تو جیسی چاہے خوشبو لگا لے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10803)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 36 (2789)، مسند احمد (4/442) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2788)
سعيد وقتادة والحسن مدلسون وعنعنوا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥مخلد بن خالد الشعيري، أبو محمد
Newمخلد بن خالد الشعيري ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4048
لا أركب الأرجوان لا ألبس المعصفر لا ألبس القميص المكفف بالحرير
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4048 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4048
فوائد ومسائل:
1: یہ روایت بعض محققین کے نزدیک صحیح ہے،علاوہ ازیں مذکورہ مسائل دیگر صحیح روایات سے بھی بھی ثابت ہیں۔

2: رسول ؐ کا یہ فرمانا ہے کہ میں یہ کام نہیں کرتا ہوں اس میں لطیف انداز سے افراد امت کو ان امور سے ممانعت ہے، بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے محبت کی وجہ سے ان کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

3: مردوں کے لئے جائز نہیں کہ ایسے پاوڈر اور کریمیں استعمال کریں جو ان کے رنگ وروپ کو نکھارنےکا والی ہوں، یہ صرف عورتوں کے لئے جائز ہیں۔

4: مہک والی خوشبوئیں اور عطر مردوں کے لئے اور عورت جب تک گھر کے اندر ہو شوہر کی دلداری کے لئے استعمال کرسکتی ہے، باہر جانا ہو تو اسے خوب صاف کرلے۔

5: اسلام اپنے معاشرے میں ایسے کسی عمل کی اجازت نہیں دیتا جو بظاہر معمولی ہی سہی، مگر دھیرے دھیرے بہت بڑے فتنے کا باعث ہو سکتا ہو۔
بالخصوص وعصمت وعفت کا بگاڑ اور معاشرے میں فساد، اللہ کی رحمت سے دوری اور اس کے شدید عقاب کا باعث بنتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4048]

Sunan Abi Dawud Hadith 4048 in Urdu