سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب في المصبوغ بالصفرة
باب: پیلے یا گیروے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4064
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ؟ فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ".
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4064]
جناب زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی زرد رنگ سے رنگا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے بھی اس رنگ سے بھر جاتے تھے۔ ان سے کہا گیا: ”آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ اسی سے (اپنے بال یا کپڑے) رنگتے تھے اور انہیں اس سے بڑھ کر اور کوئی رنگ زیادہ محبوب نہ تھا اور وہ اپنے سب کپڑے اسی سے رنگتے تھے حتیٰ کہ پگڑی بھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 37 (5852)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن النسائی/الزینة 17 (5088)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، (تحفة الأشراف: 6728) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4479)
أخرجه النسائي (5088 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (4479)
أخرجه النسائي (5088 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4064
| يصبغ بها ولم يكن شيء أحب إليه منها وقد كان يصبغ ثيابه كلها حتى عمامته |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4064 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4064
فوائد ومسائل:
1: یہاں زردرنگ سے مراد درس ہے، یہ زرد رنگ کی گھاس ہوتی ہے جو قدرے زعفران سے مشابہ ہوتی ہے۔
2: صحابہ کرام ؐاپنی عادات میں بھی رسول ؐ کی اقتداپسند کرتے تھے اور محبان رسول کو ایسے ہی ہی ہونا چاہیے، مگر صورت حال اب بہت بگڑتی جارہی ہے کہ لوگ فرائض اور واجبات شرعیہ کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
1: یہاں زردرنگ سے مراد درس ہے، یہ زرد رنگ کی گھاس ہوتی ہے جو قدرے زعفران سے مشابہ ہوتی ہے۔
2: صحابہ کرام ؐاپنی عادات میں بھی رسول ؐ کی اقتداپسند کرتے تھے اور محبان رسول کو ایسے ہی ہی ہونا چاہیے، مگر صورت حال اب بہت بگڑتی جارہی ہے کہ لوگ فرائض اور واجبات شرعیہ کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4064]
Sunan Abi Dawud Hadith 4064 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي