سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب في جلود النمور والسباع
باب: چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ".
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4132]
جناب ابوملیح بن اسامہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”درندوں کی کھالیں استعمال کرنے سے منع فرمایا“ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس32 (1771)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4258)، (تحفة الأشراف: 131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (506)
وله شاھد حسن عند البيھقي (1/21)
مشكوة المصابيح (506)
وله شاھد حسن عند البيھقي (1/21)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1771
| نهى عن جلود السباع أن تفترش |
سنن أبي داود |
4132
| نهى عن جلود السباع |
سنن النسائى الصغرى |
4258
| نهى عن جلود السباع |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4132 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4132
فوائد ومسائل:
درندوں کی کھالیں رنگی ہوئی ہوں یا بے رنگی سب کا یہی حکم ہے۔
درندوں کی کھالیں رنگی ہوئی ہوں یا بے رنگی سب کا یہی حکم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4132]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4258
درندوں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں سے (فائدہ اٹھانے سے) منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4258]
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں سے (فائدہ اٹھانے سے) منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4258]
اردو حاشہ:
درندوں کے چمڑے عموماََ متکبر لوگ استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال سے منع فرمایا جس طرح مسلمان مردوں کو سونے اور ریشم کے استعمال سے منع فرمایا گیا ہے۔ شیر اور چیتے وغیرہ کا چمڑا عام استعمال میں تھا۔ ممکن ہے دباغت کے بغیر استعمال کیا گیا ہو لیکن یہ مرجوح احتمال ہے۔ صحیح بات پہلی ہی ہے۔
درندوں کے چمڑے عموماََ متکبر لوگ استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال سے منع فرمایا جس طرح مسلمان مردوں کو سونے اور ریشم کے استعمال سے منع فرمایا گیا ہے۔ شیر اور چیتے وغیرہ کا چمڑا عام استعمال میں تھا۔ ممکن ہے دباغت کے بغیر استعمال کیا گیا ہو لیکن یہ مرجوح احتمال ہے۔ صحیح بات پہلی ہی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4258]
Sunan Abi Dawud Hadith 4132 in Urdu
أبو المليح بن أسامة الهذلي ← أسامة بن عمير الهذلي