🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب في الانتعال
باب: جوتا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے (فیتے) لگے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4134]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے میں دو پٹیاں ہوتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخمس 5 (3107)، اللباس 41 (5857)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1773)، الشمائل 10 (71)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 62 (5369)، سنن ابن ماجہ/اللباس 27 (3615)، (تحفة الأشراف: 1392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 /122، 203، 245، 269) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک فیتہ انگوٹھے اور اس کے پاس والی انگلی میں لگاتے تھے، جب کہ دوسرا فیتہ بیچ کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی میں لگاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5857)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5857
نعل النبي كان لها قبالان
صحيح البخاري
3107
نعلين جرداوين لهما قبالان
جامع الترمذي
1772
قبالان
جامع الترمذي
1773
نعلاه لهما قبالان
سنن أبي داود
4134
نعل النبي كان لها قبالان
سنن النسائى الصغرى
5370
نعل رسول الله كان لها قبالان
سنن ابن ماجه
3615
كان لنعل النبي قبالان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4134 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4134
فوائد ومسائل:
ایک پٹی انگوٹھے کے ساتھ سے اور دوسری درمیانی اور ساتھ والی انگلی کے درمیان سے ہوتی ہوئی پاوں کی پشت پر عرض میں لگی پٹی سے جا ملتی تھے، جسے شراک کہا جاتا ہے۔
فائدہ: ظاہر ہے کہ یہ حکم ان جوتوں سے متعلق جنہیں ہاتھ کی مدد سے پہننا ہوتا ہے اور جو جوتے بلا تکلف پہنے جا سکتے ہوں ان کے لئے بیٹھنے کی کوئی وجہ نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4134]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3107
3107. حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت انس ؓنے بالوں کے بغیر چمڑے کی وہ پرانی جوتیاں ہمیں دکھائیں جن پر دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ثابت بنانی نے یہ حدیث حضرت انس ؓ کے حوالے سے بیان کی کہ انھوں نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاپوش مبارک ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3107]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام استعمال کردہ اشیاء بابرکت تھیں، ان سے برکت حاصل کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ ان اشیاء کی خود ساختہ تصاویر بطور نمائش استعمال کرنا خلاف شرع ہے، چنانچہ آج کل ایک مخصوس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اکثر دکانوں اور بسوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین کی تصویر کے کارڈلیے پھرتے ہیں اور ان کے متعلق لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اسے گھر، دوکان یا دفتر میں رکھنے سے ہر قسم کی مصیبت اوربلاٹل جاتی ہے۔
تنگ دست کی تنگ دستی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے یہ سب جذباتی باتیں خلاف شریعت ہیں۔
تصویر سے اگراصل کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے تو ہر گھر میں بیت اللہ کی تصویر رکھ کر اس کا طواف کیا جاسکتا ہے اور وہاں نماز پڑھ کر لاکھ نماز کا ثواب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے؟ حجر اسود کی تصویر رکھ کر اس کو بوسہ دیا جائے تاکہ مکہ مکرمہ جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ انھیں سمجھ عطا فرمائے۔

امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ نعلین حضرت انس ؓ کے پاس تھیں اور انھیں بطور وراثت تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ ان کے پاس ہی انھیں رہنے دیا گیا۔
حضرت انس ؓ اپنی عمر کے آخری حصے میں دمشق چلے گئے۔
وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نعلین مبارک بھی نویں ہجری کے آغازمیں فتنہ تیمورلنگ کے وقت ضائع ہوگئیں۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3107]

Sunan Abi Dawud Hadith 4134 in Urdu