سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب [ النهى عن كثير، من الإرفاه ]
باب: (کبھی کبھار کنگھی کرنے کا بیان)۔
حدیث نمبر: 4159
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پابندی سے) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو (تو جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 22 (1756)، سنن النسائی/الزینة 7 (5059)، (تحفة الأشراف: 9650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (756 ا) نسائي (5058)
ھشام بن حسان مدلس وعنعن
وحديث النسائي (8/ 132 ح 5061 وسنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
إسناده ضعيف
ترمذي (756 ا) نسائي (5058)
ھشام بن حسان مدلس وعنعن
وحديث النسائي (8/ 132 ح 5061 وسنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زياد | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري | ثقة حافظ | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1756
| الترجل إلا غبا |
سنن أبي داود |
4159
| الترجل إلا غبا |
سنن النسائى الصغرى |
5059
| الترجل إلا غبا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4159 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4159
فوائد ومسائل:
اس روایت کی کی سند میں کچھ ضعف ہے، تاہم وہ سنن نسائی کی صحیح روایت سے دور ہو جاتا ہے جس میں ہے۔
اللہ کے بنی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اِرفاہ سےمنع فرماتے تھے ہم نے پوچھا اِرُفاہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا روزانہ کنگھی کرنا۔
گویا روزانہ کنگھی کرنا اور بننا سنورنا ممنوع ہے۔
علاوہ ازیں مسلمان مرد یا عورت کا اپنی زیب و زینت میں ہی مگن رہنا شرعی ذوق و مزاج کے خلاف ہے اور اس حدیث میں مذکور یہ نفی بالخصوص اس دور کی ثقافت کے پیشِ نظر ہے، وہ لوگ لمبے بال رکھتے تھے اور اُنھیں کھولنے سنوارنے میں خاص محنت کرنی پڑتی تھی اور وقت بھی بہت صرف ہو تا تھا۔
اور آج کل بھی عورتوں میں ہی نہیں مردوں میں بھی بناؤ سنگھار کا شوق اور رواج روز افزوں ہے اس لیئے بننے سنورنے کا یہ شوقِ فراواں یقیناََ ناپسندیدہ ہے، نیز افراط و تبزیر کا بھی مصداق ہے جو ایک شیطانی کام ہے، اس لیئے اس کی اجازت ضرور ہے، مگر اعتدال لے ساتھ اور ایک سن چھوڑ کر۔
اس روایت کی کی سند میں کچھ ضعف ہے، تاہم وہ سنن نسائی کی صحیح روایت سے دور ہو جاتا ہے جس میں ہے۔
اللہ کے بنی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اِرفاہ سےمنع فرماتے تھے ہم نے پوچھا اِرُفاہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا روزانہ کنگھی کرنا۔
گویا روزانہ کنگھی کرنا اور بننا سنورنا ممنوع ہے۔
علاوہ ازیں مسلمان مرد یا عورت کا اپنی زیب و زینت میں ہی مگن رہنا شرعی ذوق و مزاج کے خلاف ہے اور اس حدیث میں مذکور یہ نفی بالخصوص اس دور کی ثقافت کے پیشِ نظر ہے، وہ لوگ لمبے بال رکھتے تھے اور اُنھیں کھولنے سنوارنے میں خاص محنت کرنی پڑتی تھی اور وقت بھی بہت صرف ہو تا تھا۔
اور آج کل بھی عورتوں میں ہی نہیں مردوں میں بھی بناؤ سنگھار کا شوق اور رواج روز افزوں ہے اس لیئے بننے سنورنے کا یہ شوقِ فراواں یقیناََ ناپسندیدہ ہے، نیز افراط و تبزیر کا بھی مصداق ہے جو ایک شیطانی کام ہے، اس لیئے اس کی اجازت ضرور ہے، مگر اعتدال لے ساتھ اور ایک سن چھوڑ کر۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4159]
الحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني