سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4235
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَن أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ ابْنَةَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ: تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: ”بیٹی! اسے تو پہن لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4235]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کے ہاں سے کچھ زیورات آئے جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیے تھے۔ ان میں سونے کی ایک انگوٹھی بھی تھی جس کا نگینہ حبشی انداز کا تھا۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اعراض کرنے والے تھے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر (اپنی نواسی) زینب کی بیٹی امامہ دختر ابی العاص رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”بیٹا! یہ تم پہن لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس40 (3644)، (تحفة الأشراف: 16178)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/101، 119) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3644 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3644 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4235
| تحلي بهذا يا بنية |
سنن ابن ماجه |
3644
| تحلي بهذا يا بنية |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4235 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4235
فوائد ومسائل:
اگر عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ کو ہر گز نہ پہناتے۔
واللہ اعلم
اگر عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ کو ہر گز نہ پہناتے۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4235]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3644
سونے کی انگوٹھی پہننے سے ممانعت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: ”بیٹی! اسے تم پہن لو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3644]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: ”بیٹی! اسے تم پہن لو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3644]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے۔
(2)
عورت کے لیے سونے کا زیور پہننا جائز ہے۔
(3)
کم عمر بچیاں بھی زیور پہن سکتی ہیں۔
(4)
حضرت امامہ ؓنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں۔
ان کی والدہ حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے۔
(2)
عورت کے لیے سونے کا زیور پہننا جائز ہے۔
(3)
کم عمر بچیاں بھی زیور پہن سکتی ہیں۔
(4)
حضرت امامہ ؓنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں۔
ان کی والدہ حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3644]
Sunan Abi Dawud Hadith 4235 in Urdu
عباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق