سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : النهي عن خاتم الذهب
باب: سونے کی انگوٹھی پہننے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3644
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَةً , فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ , فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ , وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ , ثُمَّ دَعَا ابْنَةِ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ , فَقَالَ:" تَحَلِّي بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: ”بیٹی! اسے تم پہن لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 8 (4235) (تحفة الأشراف: 16178)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/101، 119) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4235
| تحلي بهذا يا بنية |
سنن ابن ماجه |
3644
| تحلي بهذا يا بنية |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3644 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3644
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے۔
(2)
عورت کے لیے سونے کا زیور پہننا جائز ہے۔
(3)
کم عمر بچیاں بھی زیور پہن سکتی ہیں۔
(4)
حضرت امامہ ؓنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں۔
ان کی والدہ حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے۔
(2)
عورت کے لیے سونے کا زیور پہننا جائز ہے۔
(3)
کم عمر بچیاں بھی زیور پہن سکتی ہیں۔
(4)
حضرت امامہ ؓنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں۔
ان کی والدہ حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3644]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4235
عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: ”بیٹی! اسے تو پہن لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4235]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: ”بیٹی! اسے تو پہن لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4235]
فوائد ومسائل:
اگر عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ کو ہر گز نہ پہناتے۔
واللہ اعلم
اگر عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ کو ہر گز نہ پہناتے۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4235]
عباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق