سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في كف اللسان
باب: فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا۔
حدیث نمبر: 4265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُل يُقَالُ لَهُ: زِيَادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ الْأَعْجَمِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 16 (2178)، سنن ابن ماجہ/الفتن 21 (3967)، (تحفة الأشراف: 8631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/211، 212) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2178) ابن ماجه (3967)
زياد سيمين كوش : مجهول الحال لم أجد من وثقه غير ابن حبان،وقالوا في التحرير (2081): ’’ ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد حسب‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151
إسناده ضعيف
ترمذي (2178) ابن ماجه (3967)
زياد سيمين كوش : مجهول الحال لم أجد من وثقه غير ابن حبان،وقالوا في التحرير (2081): ’’ ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد حسب‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2178
| تكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها أشد من السيف |
سنن أبي داود |
4265
| ستكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها أشد من وقع السيف |
سنن ابن ماجه |
3967
| تكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها أشد من وقع السيف |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4265 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4265
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندََا ضعیف ہے۔
تاہم ان حالات میں زبان سے بولنا۔
۔
۔
۔
اسی صورت میں فتنہ انگیزی ہو گی جب کوئی کسی کی نا حق حمایت یا مخالفت کرے گا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو کسی دور میں بھی منع نہیں ہے۔
یہ روایت سندََا ضعیف ہے۔
تاہم ان حالات میں زبان سے بولنا۔
۔
۔
۔
اسی صورت میں فتنہ انگیزی ہو گی جب کوئی کسی کی نا حق حمایت یا مخالفت کرے گا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو کسی دور میں بھی منع نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4265]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2178
فتنہ و فساد سے متعلق ایک اور باب۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2178]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2178]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں،
اور زیاد بن سیمین گوش لین الحدیث)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں،
اور زیاد بن سیمین گوش لین الحدیث)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2178]
زياد بن سليم الأعجم ← عبد الله بن عمرو السهمي