سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب في الحد يشفع فيه
باب: شرعی حدود کو ختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جا سکتی۔
حدیث نمبر: 4374
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کر دیا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) منگنی (مانگ کر) لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی)۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4374]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر ان سے مکر جاتی تھی۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور مذکورہ بالا حدیثِ لیث کے مانند قصہ بیان کیا۔ کہا: ”چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے یہ حدیث بواسطہ یونس، زہری سے روایت کی اور اسی طرح کہا جیسے کہ لیث نے بیان کیا کہ ”ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فتح مکہ کے دنوں میں چوری کر لی۔“ اور لیث نے بواسطہ یونس، ابن شہاب سے اپنی سند سے روایت کیا تو کہا: ”ایک عورت کوئی چیز مانگ کر لے گئی۔“ مسعور بن اسود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مانند روایت کیا، کہا: ”اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چوری کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ”ایک عورت نے چوری کر لی پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں جا کر پناہ لے لی۔“ اور سفیان بن عیینہ نے اسے بواسطہ ایوب بن موسیٰ، عن زہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا۔ اور سفیان سے روایت کرنے والوں میں الفاظِ روایت کا اختلاف ہے، ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ”وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی“ اور بعض کہتے ہیں کہ ”وہ چوری کرتی تھی،“ اور شعیب بواسطہ زہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی“ اور آگے مذکورہ حدیث بیان کی۔ اور جب اسماعیل بن امیہ اور اسحاق بن راشد دونوں زہری سے بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چوری کی تھی“ اور باقی حدیث مذکورہ حدیث کی مثل بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، (تحفة الأشراف: 16643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162)، ویأتی برقم (4397) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3475، 3732) صحيح مسلم (1688)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4374 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4374
فوائد ومسائل:
1) مانگی چیز کا انکار لغوی یااصطلا حی طور پر چوری نہیں ہے، مگر صیح حدیث میں اس کارروائی پر ہاتھ کاٹنے کا حکم ثابت ہے۔
تو معلوم ہوا کہ یہ شرعی طور پر چوری کے حکم میں ہے اور شریعت اصلاحات سے اولیٰ ترین ہے۔
2) اور ممکن ہے کہ اس عورت نے مانگی چیز کا انکار کیا ہو اور چوری بھی کی ہو تبھی اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھیے: (الروضةالندية)
1) مانگی چیز کا انکار لغوی یااصطلا حی طور پر چوری نہیں ہے، مگر صیح حدیث میں اس کارروائی پر ہاتھ کاٹنے کا حکم ثابت ہے۔
تو معلوم ہوا کہ یہ شرعی طور پر چوری کے حکم میں ہے اور شریعت اصلاحات سے اولیٰ ترین ہے۔
2) اور ممکن ہے کہ اس عورت نے مانگی چیز کا انکار کیا ہو اور چوری بھی کی ہو تبھی اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔
تفصیل کے لئے دیکھیے: (الروضةالندية)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4374]
Sunan Abi Dawud Hadith 4374 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق