سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب الحد في الخمر
باب: شراب کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ بَعْدَ الضَّرْبِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: بَكِّتُوهُ، فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَهَا.
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ“، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے: ”نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا“ پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے: ”لیکن یوں کہو: اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر ر حم فرما“ کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4478]
یحییٰ بن ایوب، حیوہ بن شریح اور ابن لہیعہ نے ابن ہاد سے اس کی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ اس روایت میں مارنے کے ذکر کے بعد یوں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اسے ذرا شرم دلاؤ، تنبیہ کرو۔“ چنانچہ وہ اسے اس طرح کہنے لگے: ”تجھے اللہ کا خوف نہ آیا؟ تو اللہ سے ڈرا نہیں؟ تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا نہ آئی؟“ پھر اس کو چھوڑ دیا اور روایت کے آخر میں ہے: ”لیکن یوں کہو: اے اللہ! اس کو معاف کر دے۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما۔“ اور بعض راویوں نے اسی قسم کے الفاظ زیادہ کیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14999) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3621)
انظر الحديث السابق (4477)
مشكوة المصابيح (3621)
انظر الحديث السابق (4477)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4478 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4478
فوائد ومسائل:
حد شرعی لگ جانے کے بعد ایسے شخص کے لئےاستغفار اور رحمت کی دعا کرنی چاہئے۔
برے انداز میں تزلیل کے الفاظ بولنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے بعض اوقات منفی ردعمل کی نفسیات کو انگیخت ملتی ہے اور پھر کئی لوگ اپنی برائی سے باز آنے کی بجائے اس پر اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں۔
اسی مفہوم کو شیطان کی مدد سے تعبیر کیا گیا ہے۔
حد شرعی لگ جانے کے بعد ایسے شخص کے لئےاستغفار اور رحمت کی دعا کرنی چاہئے۔
برے انداز میں تزلیل کے الفاظ بولنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے بعض اوقات منفی ردعمل کی نفسیات کو انگیخت ملتی ہے اور پھر کئی لوگ اپنی برائی سے باز آنے کی بجائے اس پر اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں۔
اسی مفہوم کو شیطان کی مدد سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4478]
Sunan Abi Dawud Hadith 4478 in Urdu
عبد الله بن لهيعة الحضرمي ← يزيد بن الهاد الليثي