سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في فضل القعود في المسجد
باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیبہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14279) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جیسی نیت ہو گی اسی کے مطابق اسے اجر و ثواب ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن أبي العاتكة الأزدي: ضعيف،وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 210) وبعضھم مشاه في غير علي بن يزيد الألھاني وقولھم مرجوح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30
إسناده ضعيف
عثمان بن أبي العاتكة الأزدي: ضعيف،وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 210) وبعضھم مشاه في غير علي بن يزيد الألھاني وقولھم مرجوح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عمير بن هانئ العنسي، أبو الوليد عمير بن هانئ العنسي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن سليمان الأزدي، أبو حفص عثمان بن سليمان الأزدي ← عمير بن هانئ العنسي | صدوق يخطئ | |
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس صدقة بن خالد القرشي ← عثمان بن سليمان الأزدي | ثقة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
472
| من أتى المسجد لشيء فهو حظه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 472 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 472
472۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن معناً صحیح ہے۔ کیونکہ یہ حدیث «إِنما الأعمالُ بِالنياتِ» صحيح بخاري، حديث نمبر: [1] کے ہم معنی ہے، یہ حدیث انتہائی اہم ہے کہ انسان کو خیال رکھنا چاہیے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ وہ کس نیت سے اپنے اعمال سر انجام دے رہا ہے۔ جو نیت ہو گی اس کے مطابق اجر ملے گا، چاہیے کہ ہمیشہ اللہ کی رضا پیش نظر رہے۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن معناً صحیح ہے۔ کیونکہ یہ حدیث «إِنما الأعمالُ بِالنياتِ» صحيح بخاري، حديث نمبر: [1] کے ہم معنی ہے، یہ حدیث انتہائی اہم ہے کہ انسان کو خیال رکھنا چاہیے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ وہ کس نیت سے اپنے اعمال سر انجام دے رہا ہے۔ جو نیت ہو گی اس کے مطابق اجر ملے گا، چاہیے کہ ہمیشہ اللہ کی رضا پیش نظر رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 472]
عمير بن هانئ العنسي ← أبو هريرة الدوسي