سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب في الرؤية
باب: رویت باری تعالیٰ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4731
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا حَمَّادٌ. ح وأخبرنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أخبرنا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ مُوسَى: ابْنِ عُدُسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ مُوسَى: الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ؟ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ؟ , قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَاللَّهُ أَعْظَمُ؟ , قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: قَالَ: فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ".
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو (قیامت کے دن) بلا رکاوٹ دیکھے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابورزین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے“ ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4731]
سیدنا ابورزین (لقیط بن عامر) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ عبیداللہ بن معاذ کے الفاظ ہیں: ”کیا ہم سب قیامت کے روز اسے الگ الگ دیکھیں گے، تو مخلوق میں اس کی کیا علامت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابورزین! کیا تم میں سے ہر کوئی چاند کو نہیں دیکھتا ہے؟“ ابن معاذ کے الفاظ ہیں: ”کیا چودھویں کی رات کو ہر کوئی اسے اکیلے اکیلے نہیں دیکھتا ہے؟“ پھر دونوں راویوں کا اتفاق ہے، میں نے کہا: ”کیوں نہیں (اس کو دیکھنے میں دقت یا ازدحام نہیں ہوتا)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی شان بہت بلند ہے۔“ ابن معاذ کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی ایک مخلوق کا حال ہے اور اللہ کی شان بے انتہا بلند ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (180)، (تحفة الأشراف: 11175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب اس کی مخلوق کو ہر ایک بلا روک ٹوک دیکھ لیتا ہے تو اللہ کو جو اس سے بہت ہی بڑا ہے کیوں نہیں دیکھ سکتا؟۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5658)
أخرجه ابن ماجه (180 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (5658)
أخرجه ابن ماجه (180 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4731
| أليس كلكم يرى القمر قلت بلى قال فإنما هو خلق من خلق الله فالله أجل وأعظم |
سنن ابن ماجه |
180
| أليس كلكم يرى القمر مخليا به قال قلت بلى قال فالله أعظم وذلك آيته في خلقه |
Sunan Abi Dawud Hadith 4731 in Urdu
لقيط بن عامر العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي