پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : فيما أنكرت الجهمية
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى للَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ:" يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ"؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَاللَّهُ أَعْظَمُ وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابورزین! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟“، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ (چاند) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 180]
حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کو ہم اللہ کی زیارت کریں گے؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی کیا نشانی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو رزین! کیا تم میں سے ہر شخص چاند کو اس طرح نہیں دیکھتا گویا وہ اکیلا ہی اسے دیکھ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں (ایسے ہی ہوتا ہے۔)“ فرمایا: ”اللہ زیادہ عظمت والا ہے اور یہ (چاند) مخلوقات میں اس کی نشانی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 20 (4731)، (تحفة الأشراف: 11175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (حسن)» (وکیع بن حدس مقبول عند المتابعہ ہیں، او ران کی متابعت موجود ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم (468)، شیخ الاسلام ابن تیمیة وجھودہ فی الحدیث وعلومہ (38) للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥لقيط بن عامر العقيلي، أبو رزين | صحابي | |
👤←👥وكيع بن عدس العقيلي، أبو مصعب وكيع بن عدس العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي | مقبول | |
👤←👥يعلى بن عطاء العامري يعلى بن عطاء العامري ← وكيع بن عدس العقيلي | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← يعلى بن عطاء العامري | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة متقن | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4731
| أليس كلكم يرى القمر قلت بلى قال فإنما هو خلق من خلق الله فالله أجل وأعظم |
سنن ابن ماجه |
180
| أليس كلكم يرى القمر مخليا به قال قلت بلى قال فالله أعظم وذلك آيته في خلقه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 180 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث180
اردو حاشہ:
گویا اکیلا ہی دیکھ رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی کثرت کے باوجود کسی کو اسے دیکھنے میں کوئی مشقت یا دشواری پیش نہیں آتی۔
گویا اکیلا ہی دیکھ رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی کثرت کے باوجود کسی کو اسے دیکھنے میں کوئی مشقت یا دشواری پیش نہیں آتی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 180]
Sunan Ibn Majah Hadith 180 in Urdu
وكيع بن عدس العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي