🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب في قتال اللصوص
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4765
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ يَعْنِيَ ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي الْوَلِيدَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ:" التَّحْلِيقُ".
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (اپنی روش سے) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار (اپنی ابتدائی جگہ) پر الٹا نہ آ جائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ ومابعدہ، (تحفة الأشراف: 1312) (صحیح)» ‏‏‏‏ (قتادة کا ابوسعید خدری سے سماع نہیں ہے، ہاں، انس سے ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← أنس بن مالك الأنصاري
صحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة مأمون
👤←👥مبشر بن إسماعيل الحلبي، أبو إسماعيل
Newمبشر بن إسماعيل الحلبي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← مبشر بن إسماعيل الحلبي
ثقة
👤←👥نصر بن عاصم الأنطاكي
Newنصر بن عاصم الأنطاكي ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4765
يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4765 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4765
فوائد ومسائل:
1: ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراد دیا ہے، جبکہ دیگر محققین اس کو صحیح قراردیتے ہیں اور انہی کی رائے اقرب الی الصوب محسوس ہوتی ہے۔

2: انسان کے قول و فعل میں تضاد ہونا ایسی قبیح بات ہے جو اللہ عزوجل کے انتہائی غضب اور اس کی ناراضی کا باعث ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
(كبر مقتًا عندَالله أن تقولوا مالا تفعلون)(الصف:٣) الله عزوجل كے نزديک انتہائی ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں۔

3: دین کی من مانی تعبیر، فسق وفجور اور بدعات اور ان میں غلو کی نحوست یہ ہے کہ انسان توبہ اور حق کی طرف لوٹنے کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

4: دین کی وہی تعبیر ومعتبر ہے جو جمہور صحابہ کرام رضی اللہ نے رسول اللہ ؐسے نقل کی۔

5: خلیفہ المسلمین کا فرض ہے کہ دین اور مسلمانوں میں فتنہ اور انتشار پیدا کرنے والوں کا قلع قلع کرے اور ان سے قتال کرنے والے یا اس میں شہید ہو جانے والے لوگ افضل لو گ ہوتے ہیں۔

6: سر کے بال بڑھا کر رکھنا منڈانے کی نسبت زیادہ افضل ہے تاکہ ایسے لوگوں سے مشا بہت نہ رہے۔
ویسے منڈانا بھی جائز ہے، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ کا معمول تھا، البتہ خوارج اس کا التزام کرتے تھے اور یہ ان کی پہچان بن گئی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4765]