سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب لا يقول المملوك ربي وربتي
باب: غلام یا لونڈی اپنے آقا یا مالکن کے لیے «رب» کا لفظ استعمال نہ کریں۔
حدیث نمبر: 4977
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدٌ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے (یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4977]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی منافق کو «سَيِّد» (سردار، آقا) کہہ کر مت پکارو۔ اس لیے کہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب «عَزَّ وَجَلَّ» کو ناراض کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الیوم واللیة (244)، (تحفة الأشراف: 15482)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/346، 347) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ تم نے اسے سید کہہ کر اس کی تعظیم کی حالانکہ وہ تعظیم کا مستحق نہیں اور اگر وہ ان معانی میں سے کسی بھی اعتبار سے سید نہیں ہے تو تمہارا اسے سید کہنا کذب و نفاق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قتادة عنعن
ولحديثه شاهد ضعيف عند الحاكم (المستدرك 311/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
ضعيف
قتادة عنعن
ولحديثه شاهد ضعيف عند الحاكم (المستدرك 311/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4977
| لا تقولوا للمنافق سيد فإنه إن يك سيدا فقد أسخطتم ربكم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4977 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4977
فوائد ومسائل:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وللہِ العزةُ ولرسولِه وللمومنينَ) (المنا فقون:٨) عزت تو صرف اللہ کے لیے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیےاور مومنین کے لیے ہے۔
کسی منافق کی اس طرح سےعزت کرنا جائز نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وللہِ العزةُ ولرسولِه وللمومنينَ) (المنا فقون:٨) عزت تو صرف اللہ کے لیے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیےاور مومنین کے لیے ہے۔
کسی منافق کی اس طرح سےعزت کرنا جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4977]
Sunan Abi Dawud Hadith 4977 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي