پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب ما يقول إذا أصبح
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت سو بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ عظمت والا اور اپنی تعریف کے ساتھ“ کہہ لے اور اسی طرح شام کو بھی، تو مخلوقات میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس نے اس قدر ثواب پایا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2692)، سنن الترمذی/الدعوات 59 (3469)، (تحفة الأشراف: 12560)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2692)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6844
| من قال حين يصبح وحين يمسي سبحان الله وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ما قال أو زاد عليه |
جامع الترمذي |
3469
| من قال حين يصبح وحين يمسي سبحان الله وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ما قال أو زاد عليه |
سنن أبي داود |
5091
| من قال حين يصبح سبحان الله العظيم وبحمده مائة مرة وإذا أمسى كذلك لم يواف أحد من الخلائق بمثل ما وافى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5091 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5091
فوائد ومسائل:
صحیح مسلم کی روایت میں العظیم کا لفظ نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2692)
صحیح مسلم کی روایت میں العظیم کا لفظ نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2692)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5091]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6844
حضرت عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں جو انسان "لَا إِلَهَ إلا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ له‘ له الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وهو على كل شَيْءٍ قَدِيرٌ"دس دفعہ کہتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضرت اسماعیل کی اولاد سے چار غلام آزاد کرتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6844]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ حدیث بخاری شریف میں حضرت ابو ایوب انصاری سے مرفوعا منقول ہے،
لیکن اس میں ایک گردن کا ذکر ہے،
مسند احمد میں چار کا ذکر ہے اور امام مسلم نے بھی آگے وضاحت کر دی ہے کہ عمرو بن میمون نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے حضرت ابو ایوب انصاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
فوائد ومسائل:
یہ حدیث بخاری شریف میں حضرت ابو ایوب انصاری سے مرفوعا منقول ہے،
لیکن اس میں ایک گردن کا ذکر ہے،
مسند احمد میں چار کا ذکر ہے اور امام مسلم نے بھی آگے وضاحت کر دی ہے کہ عمرو بن میمون نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے حضرت ابو ایوب انصاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6844]
Sunan Abi Dawud Hadith 5091 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي