سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. باب في حق الجوار
باب: پڑوسی کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5153
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو جَارَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاصْبِرْ , فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ , فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ لَا تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ صبر کرو“ پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو“ تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ (سن کر) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ (گھر میں) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5153]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے اپنے ہمسائے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور صبر کرو۔“ وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو یا تین بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اپنا سامان راستے پر ڈال دے۔“ چنانچہ اس نے اپنا مال متاع راستے پر ڈال دیا۔ لوگ اس سے پوچھنے لگے (کہ کیا ہوا؟) تو اس نے انہیں اپنے ہمسائے کا سلوک بتایا۔ تو لوگ اسے لعنت ملامت کرنے لگے۔ ”اللہ اس کے ساتھ ایسے کرے اور ایسے کرے۔“ تو وہ ہمسایہ اس کے پاس آیا اور اس سے بولا: ”اپنے گھر میں واپس چلے جاؤ۔ (آئندہ) میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ سلوک نہیں دیکھو گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14141) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عجلان مولى فاطمة عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← عجلان مولى فاطمة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد سليمان بن حيان الجعفري ← محمد بن عجلان القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الربيع بن نافع الحلبي، أبو توبة الربيع بن نافع الحلبي ← سليمان بن حيان الجعفري | ثقة حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5153
| اطرح متاعك في الطريق |
Sunan Abi Dawud Hadith 5153 in Urdu
عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي