🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
134. باب في حق المملوك
باب: غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5156
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ:" كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات (انتقال کے موقع پر) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں (غلام اور لونڈی) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الوصایا 1 (2698)، (تحفة الأشراف: 10343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/78) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3357)
رواية محمد بن فضيل عن مغيره بن مقسم محمولة علي السماع (مسند علي بن الجعد: 663) و أم موسيٰ وثقھا العجلي فالسند حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥فاختة الكوفية، أم موسى
Newفاختة الكوفية ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مقبول
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم
Newالمغيرة بن مقسم الضبي ← فاختة الكوفية
ثقة مدلس
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← المغيرة بن مقسم الضبي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الفضيل الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5156
الصلاة الصلاة اتقوا الله فيما ملكت أيمانكم
سنن ابن ماجه
2698
الصلاة وما ملكت أيمانكم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5156 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5156
فوائد ومسائل:

ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
لیکن دیگر محققین مثلا شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند امام احمد کے محققین نے اسے صحیح قراردیا ہے۔
محققین کی اس تفصیلی بحث سے تصیح حدیث کی رائے ہی اقرب الی الصواب محسوس ہوتی ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(الموسوعة الحدیثیة مسند إمام أحمد 209/19۔
210، حدیث: 12169)

غلام خادم اور نوکر بھی مسلمان معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔
واجب ہے کہ انسان صاحب ایمان ہونے کے ناطے ان کا خاص خیال رکھے ان کی اہانت کرنا یا انہیں ان کی ہمت سے بڑھ کر تکلیف دینا قطعاً جائز نہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5156]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2698
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی: نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2698]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے انہیں صحیح قراردیا ہے۔
الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد کے محققین نے ان پر تفصیلی بحث کی ہے، اس تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث کی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الإرواء للالبانی، رقم: 2178، وفقه السیرۃ: 501، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 2؍24، 25، 19؍209، 210، 211)
۔

(2)
اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کی ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی نماز کی تاکید فرمائی۔

(39 غلاموں کا طبقہ معاشرے کا ایک مظلوم طبقہ تھا جسے اسلام نے اتنی عزت دی کہ غلام بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے۔
خاندان غلاماں کی بادشاہت برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

(4)
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے آخری الفاظ یہ تھے۔ (اللهم الرفيق الاعلى)
اے اللہ!بلند مرتبہ ساتھیوں سے ملا دے (صحیح البخاري، المغازي، باب آخر ما تکلم به النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 4462)

(5)
جس طرح ہم خاندانی معاملات کے بارے میں وصیت کرتے ہیں اسی طرح دین کے احکام پر عمل کرنے کی بھی وصیت کرنی چاہیے۔

(6)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت دین اور دنیا دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔
اسلام میں دونوں کو برابر اہمیت حاصل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2698]