🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب السواك من الفطرة
باب: مسواک دین فطرت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ مُوسَى،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَاوُدُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَزَادَ وَالْخِتَانَ، قَالَ: وَالِانْتِضَاحَ، وَلَمْ يَذْكُرِ انْتِقَاصَ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: خَمْسٌ كُلُّهَا فِي الرَّأْسِ، وَذَكَرَ فِيهَا الْفَرْقَ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَوْلُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، نَحْوُهُ، وَذَكَرَ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَالْخِتَانَ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 54]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں فطری امور میں شامل ہیں یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا مگر اس میں ڈاڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں بلکہ ختنے کا ذکر مزید ہے۔ اور ان کی روایت میں «الِانْتِضَاحُ» کا لفظ بیان کیا گیا ہے، «انْتِقَاصُ الْمَاءِ» کا لفظ نہیں کہا گیا۔ «الِانْتِضَاحُ» کے معنی ہیں بعد از وضو شرمگاہ کے مقام پر چھینٹے مارنا اور «انْتِقَاصُ الْمَاءِ» کے معنی پانی کے ساتھ استنجاء کرنا کے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پانچ امور (فطرت) سے متعلق ہیں۔ انہوں نے مانگ نکالنے کا ذکر کیا اور ڈاڑھی چھوڑنے کا نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد کی مذکورہ بالا روایت کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ مزنی سے ان کے موقوف اقوال مروی ہیں، انہوں نے بھی ڈاڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، جو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس میں ڈاڑھی بڑھانے کا ذکر آیا ہے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں ڈاڑھی بڑھانے اور ختنے کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 54]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث محمد بن عبداللہ ابن مریم تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15003، 10350)، وحدیث موسی بن إسماعیل قد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (294)، مسند احمد (4/264) (حسن)» ‏‏‏‏ (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گذشتہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ خود اس کے اندر دو علتیں ہیں: اس کا راوی ”علی بن جدعان“ ضعیف ہے اور سلمہ نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے حدیث نہیں سنی ہے، اور موسیٰ کی روایت کے مطابق تو اس کے اندر ارسال کی علت بھی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (294)
علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقريب التهذيب: 4734)
وقال البوصيري: والجمھور علي تضعيفه (زوائد ابن ماجه:228)
وقال الھيثمي:وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد206/8،209)قلت: تناقض الھيثمي فيه وقوله ھھنا ھوالصوابوالحديث السابق (الأصل : 53 صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن أبي مريم الخزاعي
Newمحمد بن أبي مريم الخزاعي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظان
Newعمار بن ياسر العنسي ← محمد بن أبي مريم الخزاعي
صحابي
👤←👥داود بن شبيب الباهلي، أبو سليمان
Newداود بن شبيب الباهلي ← عمار بن ياسر العنسي
ثقة
👤←👥محمد بن عمار العنسي
Newمحمد بن عمار العنسي ← داود بن شبيب الباهلي
مقبول
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← محمد بن عمار العنسي
ثقة ثبت
👤←👥سلمة بن محمد العنسي
Newسلمة بن محمد العنسي ← موسى بن إسماعيل التبوذكي
ضعيف الحديث
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← سلمة بن محمد العنسي
ضعيف الحديث
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← علي بن زيد القرشي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥داود بن شبيب الباهلي، أبو سليمان
Newداود بن شبيب الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← داود بن شبيب الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
294
الفطرة المضمضة والاستنشاق والسواك وقص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط والاستحداد
سنن أبي داود
54
إن من الفطرة المضمضة والاستنشاق
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 54 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 54
فوائد ومسائل:
یہ حدیث [54] ضعیف ہے، تاہم حدیث سنن ابی داود حدیث [52] اسی مفہوم کی حامل ہے۔ اسی لیے بعض کے نزدیک یہ صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 54]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث294
امور فطرت کا بیان۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 294]
اردو حاشہ:
چھینٹے مارنا یعنی وضو کے بعد ازار پر پانی کے چھینٹے ڈالنا۔
اس کی حکمت بظاہر عدم  طهارت کے وسوسے کا ازالہ ہے۔
واللہ أعلم-
یہ روایت صحیح روایات کے ہم معنی ہے اس لیے محققین نے اسے حسن یا صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الموسوعة الحديثية: 3؍268)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 294]

Sunan Abi Dawud Hadith 54 in Urdu