🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب إذا كان الثوب ضيقا يتزر به
باب: جب کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہہ بند بنا لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے «لحاف» چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1987) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کو ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پورا ہونا چاہیے۔ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عبد الله السنجي، أبو المنيب
Newعبيد الله بن عبد الله السنجي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن واضح الأنصاري، أبو تميلة
Newيحيى بن واضح الأنصاري ← عبيد الله بن عبد الله السنجي
ثقة
👤←👥سعيد بن محمد الجرمي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن محمد الجرمي ← يحيى بن واضح الأنصاري
صدوق رمي بالتشيع
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← سعيد بن محمد الجرمي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
636
يصلي في لحاف لا يتوشح به والآخر تصلي في سراويل وليس عليك رداء
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 636 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 636
636۔ اردو حاشیہ:
➊ عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کا ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پور ا ہونا چاہیے۔
➋ اس حدیث اور دیگر احادیث میں مردوں کے لیے نماز میں سر ڈھانپنے کا کوئی حکم یا اس کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے «يا بني آدم خذوا زينتكم عندكل مسجد» [الأعراف: 31]
اے لوگو! ہر مسجد میں آتے وقت (یا ہر نماز کے وقت) اپنا بناؤ کر لیا کرو۔ کا عام حکم دیا ہے۔ یعنی نماز اور طواف میں ستر عورہ فرض ہے۔ مرد کے لیے کمر سے گھٹنے تک اور عورت کے لیے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ سارا بدن۔ اور باریک کپڑا جس سے بدن یا بال نظر آئیں معتبر نہیں۔ [موضح القرآن]
بہرحال اثنائے عبادت میں مباح زینت اختیار کرنا مطلو ب ہے اور اتباع ہوائے نفس حرام، اور غیر نماز میں ننگے سر رہنے کو عادت بنا لینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہ اللہ عنہم کے معمولات کے خلاف ہے۔
➌ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 636]

Sunan Abi Dawud Hadith 636 in Urdu