سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. باب قول النبي صلى الله عليه وسلم كل صلاة لا يتمها صاحبها تتم من تطوعه
باب: فرمان نبوی جس شخص کی فرض نماز نامکمل ہو گی اس کو نفل سے پورا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: خَافَ مِنْ زِيَادٍ، أَوْ ابْنِ زِيَادٍ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَنَسَبَنِي، فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتَى، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ يُونُسُ: وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ، قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَزَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَاكُمْ".
انس بن حکیم ضبی کہتے ہیں کہ وہ زیاد یا ابن زیاد سے ڈر کر مدینہ آئے تو ان کی ملاقات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انس کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا نسب مجھ سے جوڑا تو میں ان سے جڑ گیا، پھر وہ کہنے لگے: اے نوجوان! کیا میں تم سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ انس کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بیان کیجئے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، یونس کہتے ہیں: میں یہی سمجھتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے پوچھ تاچھ کی جائے گی وہ نماز ہو گی، ہمارا رب اپنے فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے میرے بندے کی نماز کو دیکھو وہ پوری ہے یا اس میں کوئی کمی ہے؟ اگر پوری ہو گی تو پورا ثواب لکھا جائے گا اور اگر کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر نفل ہو گی تو فرمائے گا: میرے بندے کے فرض کو اس کی نفلوں سے پورا کرو، پھر تمام اعمال کا یہی حال ہو گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 202 (1426)، (تحفة الأشراف: 12200،15503)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 189 (413)، سنن النسائی/الصلاة 9 (464)، مسند احمد (2/425، 2/90، 4/103) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1425)
الحسن البصري مدلس و عنعن وتابعه علي بن زيد بن جدعان وھو ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1425)
الحسن البصري مدلس و عنعن وتابعه علي بن زيد بن جدعان وھو ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← يونس بن عبيد العبدي | صحابي | |
👤←👥أنس بن حكيم الضبي أنس بن حكيم الضبي ← أبو هريرة الدوسي | مجهول الحال | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← أنس بن حكيم الضبي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة حجة حافظ | |
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم العبدي ← إسماعيل بن علية الأسدي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
864
| أول ما يحاسب الناس به يوم القيامة من أعمالهم الصلاة قال يقول ربنا لملائكته وهو أعلم انظروا في صلاة عبدي أتمها أم نقصها فإن كانت تامة كتبت له تامة وإن كان انتقص منها شيئا قال انظروا هل لعبدي من تطوع فإن كان له تطوع قال أتموا لعبدي فريضته من تطوعه ثم |
سنن ابن ماجه |
1426
| أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته فإن أكملها كتبت له نافلة فإن لم يكن أكملها قال الله سبحانه لملائكته انظروا هل تجدون لعبدي من تطوع فأكملوا بها ما ضيع من فريضته ثم تؤخذ الأعمال على حسب ذلك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 864 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 864
864۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے۔ حدیث [866] اس کی مؤید ہے۔
➋ قیامت کے روز اعمال کا محاسبہ حق ہے۔ ➌ شہادتین کے بعد نماز دین کا اہم ترین رکن ہے اور حقوق اللہ میں سے اسی کا سب سے پہلے حساب ہو گا۔ [سنن نسائي حديث۔ 466]
جب کہ حقوق العباد میں سب سے پہلے خونوں کا حساب لیا جائے گا۔ [صحيح بخاري۔ حديث6533 وصحيح مسلم حديث 1678]
➍ فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی تقصیر سے انسان کو محتاط رہنا چاہیے۔ نیز نوافل کا بھی خوب اہمتام کرنا چاہیے کیونکہ ان ہی سے فرضوں کی کمی پوری کی جائے گی۔
➎ نوافل خصوصاً سنن راتبہ (موکد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ ہیں۔ سفر کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی انہیں ترک نہیں فرمایا بلکہ بعض اوقات تاخیر ہونے پر ان کی قضا بھی ادا کی ہے۔ کچھ صالحین کا کہنا ہے کہ سنن و نوافل کی پابندی فرائض پر پابندی کے لئے مہمیز کا کام دیتی ہے اور جو شخص سنن میں غفلت کرتا ہے۔ عین ممکن ہے فرائض میں غفلت کا مرتکب ہو جائے۔
➏ وہ احادیث جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نو مسلم بدووں کو صرف فرائض کی پابندی کے عہد پر انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ وہ اول تو ابتدائے اسلام کی بات ہے۔ یہی لوگ جوں جوں حق کو سمجھتے گئے، نوافل میں بہت آگے بڑھتے چلے گئے۔ جیسے کہ ان کی سیرتیں واضح کرتی ہیں۔ دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ سے انہیں ایسا تزکیہ حاصل ہو جاتا تھا کہ ان کے فرائض ہی سے اس اعلیٰ پائے کہ ہو جاتے تھے کہ وہ نوافل نہ بھی پڑھتے تو ان کی کامیابی کی ضمانت اور خوشخبری زبان رسالت سے جاری ہو گئی تھی۔ لہٰذا دیگر مسلمانوں کا اس معاملے میں اپنے آپ کو ان پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے اور صرف فرائض پر تکیہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ بلکہ یوم الحسرۃ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مذید در مذید تقرب الیٰ اللہ کوشش کرنی چاہیے۔ «وبالله التوفيق»
ہاں بعض اوقات کسی عذر کی بنا پر سنتیں رہ جایئں تو ان کی قضا کرنا واجب نہیں ہے۔
➊ یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے۔ حدیث [866] اس کی مؤید ہے۔
➋ قیامت کے روز اعمال کا محاسبہ حق ہے۔ ➌ شہادتین کے بعد نماز دین کا اہم ترین رکن ہے اور حقوق اللہ میں سے اسی کا سب سے پہلے حساب ہو گا۔ [سنن نسائي حديث۔ 466]
جب کہ حقوق العباد میں سب سے پہلے خونوں کا حساب لیا جائے گا۔ [صحيح بخاري۔ حديث6533 وصحيح مسلم حديث 1678]
➍ فرائض کی ادائیگی میں کسی بھی تقصیر سے انسان کو محتاط رہنا چاہیے۔ نیز نوافل کا بھی خوب اہمتام کرنا چاہیے کیونکہ ان ہی سے فرضوں کی کمی پوری کی جائے گی۔
➎ نوافل خصوصاً سنن راتبہ (موکد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ ہیں۔ سفر کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی انہیں ترک نہیں فرمایا بلکہ بعض اوقات تاخیر ہونے پر ان کی قضا بھی ادا کی ہے۔ کچھ صالحین کا کہنا ہے کہ سنن و نوافل کی پابندی فرائض پر پابندی کے لئے مہمیز کا کام دیتی ہے اور جو شخص سنن میں غفلت کرتا ہے۔ عین ممکن ہے فرائض میں غفلت کا مرتکب ہو جائے۔
➏ وہ احادیث جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نو مسلم بدووں کو صرف فرائض کی پابندی کے عہد پر انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ وہ اول تو ابتدائے اسلام کی بات ہے۔ یہی لوگ جوں جوں حق کو سمجھتے گئے، نوافل میں بہت آگے بڑھتے چلے گئے۔ جیسے کہ ان کی سیرتیں واضح کرتی ہیں۔ دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ سے انہیں ایسا تزکیہ حاصل ہو جاتا تھا کہ ان کے فرائض ہی سے اس اعلیٰ پائے کہ ہو جاتے تھے کہ وہ نوافل نہ بھی پڑھتے تو ان کی کامیابی کی ضمانت اور خوشخبری زبان رسالت سے جاری ہو گئی تھی۔ لہٰذا دیگر مسلمانوں کا اس معاملے میں اپنے آپ کو ان پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے اور صرف فرائض پر تکیہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ بلکہ یوم الحسرۃ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مذید در مذید تقرب الیٰ اللہ کوشش کرنی چاہیے۔ «وبالله التوفيق»
ہاں بعض اوقات کسی عذر کی بنا پر سنتیں رہ جایئں تو ان کی قضا کرنا واجب نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 864]
أبو هريرة الدوسي ← يونس بن عبيد العبدي