🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. ‏(‏86‏)‏ باب الرخصة فى الغسل والوضوء من ماء البحر، إذ ماؤه طهور ميتته حل،
سمندر کے پانی سے غسل اور وضو کرنے کی رخصت ہے کیونکہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q111
ضِدُّ قَوْلِ مَنْ كَرِهَ الْوُضُوءَ، وَالْغُسْلَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، وَزَعَمَ أَنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ أَبْحُرٍ، وَسَبْعَ نِيرَانٍ، وَكُرْهُ الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنْ مَائِهِ لِهَذِهِ الْعِلَّةِ زَعْمٌ
اس شخص کے قول کے برعکس جو سمندر کے پانی سے وضو اور غسل کرنے کو مکروہ سمجھتا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے، اور آگ کےنیچے سمندر ہے، اس طرح سات سمندر اور سات آگ ہیں۔ اس مزعومہ علت کی وجہ سے وہ سمندر کے پانی سے وضو اور غسل کرنا مکروہ سمجھتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q111]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا مِنْهُ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلالُ مَيْتَتُهُ" . هَذَا حَدِيثُ يُونُسَ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ، وَلا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، وَقَالَ: نَرْكَبُ الْبَحْرَ أَزْمَانًا
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کا پانی پاک ہے، اُس کا مردار حلال ہے۔ یہ یونس کی حدیث ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ یحییٰ بن حکیم نے اپنی روایت میں «‏‏‏‏حدث» ‏‏‏‏ کی بجائے «‏‏‏‏عن» ‏‏‏‏ صفوان بن سلیم بیان کیا ہے۔ اُنہوں نے سعید بن سلمہ کے نام کے ساتھ «‏‏‏‏من اٰل ان الأزرق» ‏‏‏‏ اور مغیرہ کے نام کے ساتھ «‏‏‏‏من بني عبدالدار» ‏‏‏‏ نہیں کیا (یعنی ان کے قبیلوں کا نام نہیں لیا)۔ نیز ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ ہم مدتوں سمندری سفر میں رہتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥المغيرة بن أبي بردة الكناني
Newالمغيرة بن أبي بردة الكناني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥سعيد بن سلمى الباهلي
Newسعيد بن سلمى الباهلي ← المغيرة بن أبي بردة الكناني
ثقة
👤←👥صفوان بن سليم القرشي، أبو عبد الله، أبو الحارث
Newصفوان بن سليم القرشي ← سعيد بن سلمى الباهلي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← صفوان بن سليم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة