صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
710. (477) باب النهي عن أن يصلي ركعتي الفجر بعد الإقامة،
اقامت ہونے کے بعد فجر کی دو سنّتیں پڑھنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1126
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ بِخَبَرِ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ يَعْنِي الأَنْصَارِيَّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَرَأَى نَاسًا يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ بِالْعَجَلَةِ، فَقَالَ:" أَصَلاتَانِ مَعًا، فَنَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ" . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَيْلٍ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ:" أَصَلاتَانِ مَعًا"، لَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلا، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ كِلا الْخَبَرَيْنِ، عَنْ أَنَسٍ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ جَمِيعًا. حَدَّثَنَا بِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَيْلٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مُنْفَرِدَيْنِ، خَبَرُ أَنَسٍ مُنْفَرِدًا، وَخَبَرُ ابْنِ سَلَمَةَ مُنْفَرِدًا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ اقامت ہو چکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو جلدی جلدی دو رکعات (سنّت) ادا کرتے دیکھا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا دو نمازیں اکٹھی ادا کرنا چاہتے ہیں؟“ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اقامت ہونے کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرما دیا۔ جناب شریک نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ تک مذکورہ بالا روایت جیسی حدیث بیان کی ہے کہ کیا دو نمازیں اکٹھی ادا کرنا چاہتے ہیں۔جناب محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ یہ روایت امام مالک بن انس اور اسماعیل بن جعفر نے شریک بن ابی نمبر کے واسطے سے جناب ابوسلمہ سے مرسل بیان کی ہے اور ابراہیم بن طہمان نے شر یک کے واسطے سے یہ دونوں حدیثیں سیدنا انس اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہیں۔ جناب ابراھیم بن طہمان نے دونوں حدیثوں کو الگ الگ اسانید سے بیان کیا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کو الگ طور پر اور سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو الگ سند سے بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث: «الصحيحه الباني: 2588، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1126، والبزار فى (مسنده) برقم: 6194»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1126 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1126
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد نوافل شروع کرنا ممنوع ہے، خواہ فجر، ظہر اور عصر کی مؤکدہ سنتیں ہی ہوں۔
◈ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
◈ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا موقف ہے کہ جس نے صبح کی سنتیں نہ پڑھی ہوں وہ اقامتِ نماز کے بعد پڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ دوسری رکعت فوت ہونے کا ڈر نہ ہو۔
◈ سفیان ثوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اقامتِ نماز کے بعد فجر کی سنتیں پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ صبح کی پہلی رکعت فوت ہونے کا خوف نہ ہو۔
◈ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اقامت کے بعد مسجد میں فجر کی سنتیں نہ پڑھی جائیں، البتہ مسجد کے باہر اقامت کے بعد یہ سنتیں پڑھنا جائز ہیں۔
اس بارے میں جمہور علماء کا موقف راجح اور اقرب الی الصواب ہے۔ [شرح النووي: 221/5-222]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد نوافل شروع کرنا ممنوع ہے، خواہ فجر، ظہر اور عصر کی مؤکدہ سنتیں ہی ہوں۔
◈ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔
◈ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا موقف ہے کہ جس نے صبح کی سنتیں نہ پڑھی ہوں وہ اقامتِ نماز کے بعد پڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ دوسری رکعت فوت ہونے کا ڈر نہ ہو۔
◈ سفیان ثوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اقامتِ نماز کے بعد فجر کی سنتیں پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ صبح کی پہلی رکعت فوت ہونے کا خوف نہ ہو۔
◈ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اقامت کے بعد مسجد میں فجر کی سنتیں نہ پڑھی جائیں، البتہ مسجد کے باہر اقامت کے بعد یہ سنتیں پڑھنا جائز ہیں۔
اس بارے میں جمہور علماء کا موقف راجح اور اقرب الی الصواب ہے۔ [شرح النووي: 221/5-222]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1126]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1126 in Urdu
شريك بن عبد الله الليثي ← أنس بن مالك الأنصاري