صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
740. (507) بَابُ الزَّجْرِ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا تَأَذَّى بِالْجَهْرِ بَعْضُ الْمُصَلِّينَ غَيْرَ الْجَاهِرِ بِهَا
نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے کی ممانعت کا بیان جبکہ بلند آواز سے قراءت کرنے سے آہستہ آواز سے قراءت کرنے والے نمازیوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 1162
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اعْتَكَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ، زَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، وَقَالا: فَكَشَفَ السُّتُورَ، وَقَالَ:" أَلا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلا يَرْفَعَّنَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ الْقِرَاءَةَ". قَالَ مُحَمَّدٌ:" أَوْ فِي الصَّلاةِ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا تو صحابہ کرام کو بلند آواز سے قرأت کرتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبہ نما خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: ”آگاہ رہو، بیشک تم سب اپنے رب کی مناجات کر رہے ہو، لہٰذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ، اور نہ ایک دوسرے پر بلند آواز سے قراءت کرو۔ جناب محمد بن یحییٰ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”یا نماز میں (بلند قراءت نہ کرو۔)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1162]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1162، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1173، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8038، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1332، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12077، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 883، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4216»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1162 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1162
فوائد:
نماز تہجد میں اگرچہ بلند آواز سے قراءت کرنا جائز ہے، لیکن اتنی اونچی آواز جس سے دیگر نمازیوں کی نمازوں میں خلل واقع ہو، مکروہ ہے۔
اور مستحب صورت جہری اور سری قراءت کی درمیانی راہ ہے۔
نماز تہجد میں اگرچہ بلند آواز سے قراءت کرنا جائز ہے، لیکن اتنی اونچی آواز جس سے دیگر نمازیوں کی نمازوں میں خلل واقع ہو، مکروہ ہے۔
اور مستحب صورت جہری اور سری قراءت کی درمیانی راہ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1162]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1162 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري