صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
747. (514) باب ذكر الوقت من النهار الذى يكون المرء فيه مدركا لصلاة الليل إذا فاتت بالليل فصلاها فى ذلك الوقت من النهار
دن کے اس وقت کا بیان جس میں آدمی اپنی چُھٹی ہوئی نماز تہجّد ادا کرلے تو وہ نماز تہجّد کی فضیلت اور اجر و ثواب کو پا لیگا
حدیث نمبر: 1171
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِئِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ" . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي سَلامَةُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ سَوَاءً
جناب عبدالرحمان بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جو شخص اپنی معمول کی قراءت سے یا اس کے کچھ حصّے سے سویا رہ گیا، پھر اُس نے وہ حصّہ نماز فجر اور ظہر کے درمیان تلاوت کر لیا (اسے پڑھ کر نفل ادا کر لیے) تو اُس کے لئے لکھ دیا جاتا ہے گویا کہ اُس نے وہ حصّہ رات ہی کو پڑھا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 747، ومالك فى (الموطأ) برقم: 686، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1171، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2643، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1789، والترمذي فى (جامعه) برقم: 581، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1343، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4630، وأحمد فى (مسنده) برقم: 225»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1171 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1171
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ رات کے وقت تلاوت اور نماز کا وظیفہ مقرر کرنا مشروع ہے۔
اور جب یہ وظیفہ نیند یا کسی عذر کی وجہ سے رہ جائے تو اس کی قضا جائز ہے۔
اور جو شخص اس وظیفہ کی قضا نمازِ فجر سے لے کر نمازِ ظہر تک کرے تو اسے رات کے وقت نماز ادا کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ [نیل الأوطار: 53/3]
یہ حدیث دلیل ہے کہ رات کے وقت تلاوت اور نماز کا وظیفہ مقرر کرنا مشروع ہے۔
اور جب یہ وظیفہ نیند یا کسی عذر کی وجہ سے رہ جائے تو اس کی قضا جائز ہے۔
اور جو شخص اس وظیفہ کی قضا نمازِ فجر سے لے کر نمازِ ظہر تک کرے تو اسے رات کے وقت نماز ادا کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ [نیل الأوطار: 53/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1171]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1171 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي