صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
765. (532) باب فضل صلاة التطوع فى عقب كل وضوء يتوضؤه المحدث
بے وضو ہونے والے شخص کے ہر وضو کے بعد نفل نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1208
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: قَالَ: ثنا أَبُو حَيَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، نَا أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ عِنْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ:" يَا بِلالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الإِسْلامِ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الإِسْلامِ عِنْدِي عَمَلا أَرْجَى مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا تَامًّا قَطُّ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطَّهُورِ لِرَبِّي مَا كَتَبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز فجر کے وقت فرمایا: ”اے بلال مجھے اپنا وہ عمل بتاؤ جو تمہارے نزدیک اسلام لانے کے بعد سب سے زیادہ نفع کی امید والا ہے۔ بیشک میں نے آج رات جنّت میں تیرے جُوتوں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے۔ تو اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میرے نزدیک میں نے اسلام لانے کے بعد اس سے زیادہ نفع اور اجر و ثواب کی امید والا کوئی عمل نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی مکمّل وضو کیا تو میں نے اس وضو کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے لئے نفل نماز پڑھی جتنی اُس نے میرے مقدر میں پڑھنی لکھی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التطوع غير ما تقدم ذكرنا لها/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1149، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2458، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1208، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7085، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8519، 9803، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6104»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1208 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1208
فوائد:
➊ اس حدیث میں وضو کے بعد نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان ہے۔
یہ عمل مسنون ہے اور نماز کے ممنوعہ اوقات، یعنی طلوعِ آفتاب، زوال اور غروبِ آفتاب کے وقت اور فجر و عصر کے بعد بھی مباح ہے، ہمارا موقف بھی ہے۔ [شرح النووي: 16/12]
➋ اس حدیث میں بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت و عظمت کا بیان اور ان کے جنتی ہونے کا بلیغ حکم ہے۔
➌ جنت موجود ہے اور منکرینِ جنت کا اعتقاد باطل ہے کہ جنت تصوراتی چیز ہے۔
➊ اس حدیث میں وضو کے بعد نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان ہے۔
یہ عمل مسنون ہے اور نماز کے ممنوعہ اوقات، یعنی طلوعِ آفتاب، زوال اور غروبِ آفتاب کے وقت اور فجر و عصر کے بعد بھی مباح ہے، ہمارا موقف بھی ہے۔ [شرح النووي: 16/12]
➋ اس حدیث میں بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت و عظمت کا بیان اور ان کے جنتی ہونے کا بلیغ حکم ہے۔
➌ جنت موجود ہے اور منکرینِ جنت کا اعتقاد باطل ہے کہ جنت تصوراتی چیز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1208]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1208 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي