صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. (107) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالسِّوَاكِ أَمْرُ فَضِيلَةٍ لَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسواک کرنے کا حکم افضلیت کے لیے فرضیت کے لیے نہیں
حدیث نمبر: Q139
إِذْ لَوْ كَانَ السِّوَاكُ فَرْضًا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ أَوْ لَمْ يَشُقَّ. وَقَدْ أَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ آمِرًا بِهِ أُمَّتَهُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، لَوْلَا أَنَّ ذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيْهِمْ. فَدَلَّ هَذَا الْقَوْلُ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَمْرَهُ بِالسِّوَاكِ أَمْرُ فَضِيلَةٍ، وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِهِ مَنْ يَخِفُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ دُونَ مَنْ يَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ.
اگر مسواک کرنے کا حُکم فرض ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُمّت کو اس کا حُکم دے دیتے خواہ اُن پر ہی مشکل ہوتا یا نہ ہوتا۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”وہ اُمت کے لیے مشقّت کا باعث نہ سمجھتے تو انہیں ہر نماز کے لیے اس کا حُکم دیتے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسواک کرنے کا حُکم افضلیت کے لیے ہے۔ اور حُکم اس کے لیے ہے جو اسے آسانی سمجھے مشکل سمجھنے والے کے لیے نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سنن السواك وفضائله/حدیث: Q139]
حدیث نمبر: 139
نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ، وَالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ" . لَمْ يُؤَكِّدِ الْمَخْزُومِيُّ تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمّت کومشقّت میں ڈال دوں گا تومیں اُنہیں عشاء کی نماز تاخیر سےادا کرنےاور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ مخزومی نے عشاء کی تا خیر کی تاکید بیان نہیں کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سنن السواك وفضائله/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 887، 7240، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 252، ومالك فى (الموطأ) برقم: 214، ابن الجارود فى "المنتقى"، 70، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 139، 140، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1068،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 518، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 7، وأبو داود فى (سننه) برقم: 46، والترمذي فى (جامعه) برقم: 22، 167، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 287، 690، 691، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 145، وأحمد فى (مسنده) برقم: 982»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 139 in Urdu
سعيد بن عبد الرحمن القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي