صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عورتوں سے ان کے ایام حیض میں روزے کی فرضیت ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ أَسْلَمَ , عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ، أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ , يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ". فَقُلْنَ لَهُ: مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟" قُلْنَ: بَلَى. قَالَ:" ذَلِكَ لِنُقْصَانِ عَقْلِهَا. أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟" قَالَ:" فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا" . هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت، تمہارے دین اور عقل کے نقص وکمی کے باوجود میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو عقل مند شخص کی عقل وہوش کو اڑانے والا نہیں دیکھا۔ تو اُنہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہمارے دین اور عقل کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی نہیں ہے؟“ اُنہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کی عقل کی کمی اور نقص کی وجہ سے ہے۔ کیا جب عورت کو حیض آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا چھوڑ نہیں دیتی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ چیز اس کے دین کا نقصان ہے۔“ یہ حدیث جناب محمد بن یحییٰ کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 49، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1497، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2045 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2045
فوائد:
➊ تمام امت کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ عورت ایام حیض میں روزہ نہیں رکھے گی اور حالت حیض میں اس کا روزہ رکھنا غیر صحیح امر ہے اور ایسا روزہ شمار نہیں ہوگا، نیز حیض سے پاک ہونے کے بعد حالت حیض میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا لازم ہے۔ [فتح الباري لابن رجب: 2/ 91]
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالت حیض میں حائضہ پر نماز اور روزہ واجب نہیں۔ [نيل الأوطار: 3/ 227]
➊ تمام امت کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ عورت ایام حیض میں روزہ نہیں رکھے گی اور حالت حیض میں اس کا روزہ رکھنا غیر صحیح امر ہے اور ایسا روزہ شمار نہیں ہوگا، نیز حیض سے پاک ہونے کے بعد حالت حیض میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا لازم ہے۔ [فتح الباري لابن رجب: 2/ 91]
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالت حیض میں حائضہ پر نماز اور روزہ واجب نہیں۔ [نيل الأوطار: 3/ 227]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2045]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2045 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري