صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزہ کھلوانے والے کو روزے دار کے اجر میں کمی کیے بغیر اُس کے برابر ثواب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى كِلاهُمَا , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا , أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ" . هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ. وَلَمْ يَقُلْ عَلِيٌّ: أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مجاہد کو (سامان جنگ دے کر) تیار کیا یا حاجی کو تیاری میں مدد دی یا اس کے بعد اُس کے گھر والوں کا خیال رکھا، روزے دار کو افطاری کرائی تو اُسے ان کے برابر اجر ملے گا، جبکہ ان سب کے اجر وثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی۔“ یہ حدیث جناب صنعانی کی ہے۔ اور جناب علی بن منذر کی روایت میں ”یا حاجی کو تیاری میں مدد دی“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2843، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1895، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1113، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2064، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3180، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 807، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1746، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2325، 2328، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8234، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17304»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2064 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2064
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نمازی اور حاجی کا سامان تیار کرنا، غازی کے گھر کی دیکھ بھال کرنا اور روزہ دار کو روزہ افطار کرانا بڑی فضیلت کے کام ہیں۔ اور ان نیک کاموں کے فاعلین کو عاملین کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے۔
➋ روزہ دار کو روزہ افطار کرانا مستحب فعل ہے۔ [المغني: 6/192]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نمازی اور حاجی کا سامان تیار کرنا، غازی کے گھر کی دیکھ بھال کرنا اور روزہ دار کو روزہ افطار کرانا بڑی فضیلت کے کام ہیں۔ اور ان نیک کاموں کے فاعلین کو عاملین کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے۔
➋ روزہ دار کو روزہ افطار کرانا مستحب فعل ہے۔ [المغني: 6/192]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2064]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2064 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← زيد بن خالد الجهني