صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نیک عمل پر ہمیشگی کرنے کی فضیلت کے باعث، اگر رمضان المبارک میں اعتکاف رہ جاۓ تو شوال میں اعتکاف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ الاعْتِكَافَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ لِتَعْتَكِفَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ مَعَهُ، فَأَذِنَتْ لَهَا، فَضَرَبَتْ خِبَاءَهَا، فَسَأَلَتْهَا حَفْصَةُ تَسْتَأْذِنُ لَهَا لِتَعْتَكِفَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ ضَرَبَتْ مَعَهُنَّ، وَكَانَتِ امْرَأَةً غَيُورًا، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِيَتَهُنَّ. فَقَالَ:" مَا هَذَا؟ الْبِرَّ يُرِدْنَ بِهَذَا؟" فَتَرَكَ الاعْتِكَافَ حَتَّى أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ فِي عَشْرٍ مِنْ شَوَّالٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے کا ارادہ کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی۔ پس جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا تو اُنہیں بھی اجازت دے دی، تو انہوں نے اپنا خیمہ لگالیا۔ پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اُن کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کریں تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کرسکیں۔ پھر جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ معاملہ دیکھا تو اُنہوں نے بھی اُن کے ساتھ خیمہ لگا لیا اور وہ بڑی غیرت مند خاتون تھیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیمے لگے دیکھے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ کیا یہ اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہیں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف چھوڑ دیا حتّیٰ کہ رمضان المبارک ختم ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2033، 2034، 2041، 2045، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1173، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1130، وابن الجارود فى "المنتقى"، 448، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2217، 2224، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 708، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2464، والترمذي فى (جامعه) برقم: 791، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25183، والحميدي فى (مسنده) برقم: 196»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2224 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2224
فوائد:
➊ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے معتکف کا اعتکاف چھوٹ جائے اور اس نے رمضان کے اعتکاف کی نیت کی ہو تو وہ شوال میں بھی اعتکاف کر سکتا ہے۔ ایسا کرنا مسنون و مباح فعل ہے۔
➋ عورتیں بھی مسجد ہی میں اعتکاف کریں۔
➌ اگر عورتوں میں نیکی کے جذبے کے سوا ذاتی اغراض و مقاصد ہوں تو سرپرست انہیں اعتکاف سے منع کر سکتا ہے۔
➊ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے معتکف کا اعتکاف چھوٹ جائے اور اس نے رمضان کے اعتکاف کی نیت کی ہو تو وہ شوال میں بھی اعتکاف کر سکتا ہے۔ ایسا کرنا مسنون و مباح فعل ہے۔
➋ عورتیں بھی مسجد ہی میں اعتکاف کریں۔
➌ اگر عورتوں میں نیکی کے جذبے کے سوا ذاتی اغراض و مقاصد ہوں تو سرپرست انہیں اعتکاف سے منع کر سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2224]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2224 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق