صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
181. (180) باب ذكر الدليل على أن جماع نسوة لا يوجب أكثر من غسل واحد.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کئی عورتوں سے (ایک وقت میں) جماع کرنے سے ایک ہی غسل واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 231
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ ، نا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ" ، قَالَ: فَقُلْتُ لأَنَسٍ: وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: كُنَا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِي قُوَّةَ ثَلاثِينَ رَجُلا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات اور دن کے وقت، میں ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی تمام بیویوں کے پاس چکّر لگا لیا کرتے تھے اور وہ گیارہ تھیں۔ (قتادہ) کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے؟َ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم (آپس میں) گُفتگو کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 268، 284، 5068، 5215، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 309، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1206، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 263، وأبو داود فى (سننه) برقم: 218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 140، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 588، 589، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1003، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12127»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله معاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله محمد بن منصور الخزاعي ← معاذ بن هشام الدستوائي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 231 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 231
فوائد:
➊ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایک رات میں ایک بیوی سے بار بار جماع کرنے یا کئی بیویوں سے کئی بار مباشرت کرنے سے ایک ہی غسل واجب ہوتا ہے، ہر جماع کے بعد غسل کرنا واجب نہیں۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیویوں میں تقسیم واجب نہیں تھی، اگر تقسیم واجب ہوتی تو ایک بیوی کی باری کی رات آپ کا کسی اور بیوی سے ملاپ درست نہ ہوتا۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی لحاظ سے اکمل تھے، چار سے زائد شادیاں کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا۔ آپ کے علاوہ کسی کو بھی چار سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
➊ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایک رات میں ایک بیوی سے بار بار جماع کرنے یا کئی بیویوں سے کئی بار مباشرت کرنے سے ایک ہی غسل واجب ہوتا ہے، ہر جماع کے بعد غسل کرنا واجب نہیں۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیویوں میں تقسیم واجب نہیں تھی، اگر تقسیم واجب ہوتی تو ایک بیوی کی باری کی رات آپ کا کسی اور بیوی سے ملاپ درست نہ ہوتا۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی لحاظ سے اکمل تھے، چار سے زائد شادیاں کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا۔ آپ کے علاوہ کسی کو بھی چار سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 231]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 231 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري