صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1718. (163) باب ذكر الدليل على أن أمر النبى صلى الله عليه وسلم بوضع القنو الذى ذكرنا فى المسجد للمساكين أمر ندب وإرشاد، لا أمر فريضة وإيجاب، خبر طلحة بن عبد الله من هذا الباب
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مساکین کے لئے کھجوروں کا ایک خوشہ مسجد میں رکھنے کا حُکم دینا استحباب اور فضیلت کے لئے ہے، فرض اور وجوبی حُکم نہیں جناب طلحہ بن عبداللہ کی روایت اسی باب کے متعلق ہے
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ، فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ، وَمَنْ جَمَعَ مَالا حَرَامًا، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ، وَكَانَ أَجْرُهُ عَلَيْهِ" . حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، وَقَالَ: إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اپنی ذمہ داری اور فرض ادا کر دیا۔ اور جس شخص نے حرام مال جمع کیا پھر اس کا صدقہ کردیا تو اسے اس صدقے کا کوئی اجر نہیں ملے گا اور اس پر اس کا گناہ ہوگا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2471]
تخریج الحدیث: حسن
الرواة الحديث:
عبد الله بن وهب القرشي ← عبد الله بن السمح السهمي