صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1784. (43) باب ذكر الدليل على أن الملائكة لا تصحب رفقة فيها جرس؛ إذ الجرس مزمار الشيطان
اس بات کی دلیل کا بیان کہ فرشتے اس قافلے اور جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو کیونکہ گھنٹی شیطان کا باجا اور بانسری ہے
حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَرَسُ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2114، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2554، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4704، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1635، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2556، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10435، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8905»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2554 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2554
فوائد:
➊ سفر میں کتے اور گھنٹی ساتھ رکھنا مکروہ ہے اور فرشتے ایسے مسافروں کی رفاقت اختیار نہیں کرتے۔
➋ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت اور استغفار کے فرشتے ہیں، حفاظت کرنے والے فرشتے مراد نہیں۔ [شرح النووي: 65/14]
➊ سفر میں کتے اور گھنٹی ساتھ رکھنا مکروہ ہے اور فرشتے ایسے مسافروں کی رفاقت اختیار نہیں کرتے۔
➋ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت اور استغفار کے فرشتے ہیں، حفاظت کرنے والے فرشتے مراد نہیں۔ [شرح النووي: 65/14]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2554]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2554 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي