صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
234. (1) باب بدء فرض الصلوات الخمس
نماز پنجگانہ کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
حدیث نمبر: 302
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلا، يَقُولُ: خُذْ بَيْنَ الثَّلاثَةِ، فَأُوتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ"، قَالَ:" فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا"، قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ: مَا يَعْنِي بِهِ؟ قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ" فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً، ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ، يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ، يَقَعُ خُطَاهُ أَقْصَى طَرْفِهِ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، وَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مِنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَبُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفُتِحَ لَنَا، قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ، فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ"، قَالَ:" ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفُتِحَ لَنَا، قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى يَحْيَى، وَعِيسَى، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَانِ؟ قَالَ: يَحْيَى، وَعِيسَى، قَالَ سَعِيدٌ: إِنِّي حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: ابْنَيِ الْخَالَةِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا، فَقَالا: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ"، قَالَ:" ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفُتِحَ لَنَا، وَقَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلَى يُوسُفَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ، ثُمَّ انْطَلِقَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ، فَكَانَ نَحْوٌ مَنْ كَلامِ جِبْرِيلَ وَكَلامِهِمْ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى هَارُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكَى، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، فَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَبْقَهَا مِثْلُ قِلالِ هَجَرَ، وَوَرَقَهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مَنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الأَنْهَارُ؟ قَالَ: أَمَّا النَّهَرَانِ الْبَاطِنانِ، فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ: فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ رُفِعَ لَنَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلِكٍ، إِذَا خَرَجُوا مِنْهَا لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ، قَالَ: ثُمَّ أُوتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ، أَحَدُهُمَا خَمْرٌ، وَالآخَرُ لَبَنٌ، يُعْرَضَانِ عَلَيَّ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقِيلَ: أَصَبْتَ أَصَابَ اللَّهُ بِكَ أُمَّتَكَ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَفُرِضَتْ عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلاةً، فَأَقْبَلْتُ بِهِنَّ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ، إِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ فَرَجَعْتُ، فَخَفَّفَ عَنِّي خَمْسًا، فَمَا زِلْتُ أَخْتَلِفُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى، يَحُطُّ عَنِّي، وَيَقُولُ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ حَتَّى رَجَعْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ قَدْ بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ"، قَالَ:" لَقَدِ اخْتَلَفْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ، فَنُودِيتُ إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ، أَوْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي، وَجَعَلْتُ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا" . نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى الْعَوْذِيُّ ثُمَّ الْمَحْمَلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي: مَا يَعْنِي بِهِ؟ قَالَ:" مِنْ ثَغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ"، وَقَدْ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" مَنْ قُصَّتِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ"، فَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَ قَتَادَةَ فِي خَبَرِ سَعِيدٍ، فَقُلْتُ لَهُ: لَمْ يُرِدْ بِهِ , فَقُلْتُ لأَنَسٍ إِنَّمَا أَرَادَ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ نے اُنہیں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اسراء والی رات کے متعلق بیان فرمایا پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جارود رحمہ اللہ سے پوچھا جبکہ وہ میرے پہلو میں تشریف فرما تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا مراد ہے (کہ میرا سینہ یہاں سے یہاں تک کھولا گیا) اُنہوں نے فرمایا کہ (اس کا مطلب ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسلی کی ہڈی سے لیکر (زیرِ ناف) بالوں تک کھولا گیا۔ اور میں نے اُنہیں یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے بالوں سے لیکر (زیرِ ناف) بالوں تک کھولا گیا۔ پھر محمد بن یحییٰ نے مکمل حدیث بیان کی۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ حضرت سعید کی روایت میں قتادہ رحمہ اللہ کا یہ کہنا ہے: «فقلت له» ”میں نے ان سے کہا“ اس سے مراد یہ نہیں کہ اُنہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا تھا بلکہ اُن کی اس سے مراد یہ ہے کہ اُنہوں نے جارود سے کہا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 349، 1636، 3207، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 162، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 301، 302، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 48، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 271، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 447، والترمذي فى (جامعه) برقم: 213، 3346، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1399، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1279، والدارقطني فى (سننه) برقم: 33، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12495»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 302 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 302
فوائد:
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج، نیند کی حالت میں ہوئی یا بیداری کی، روحانی معراج ہوئی یا جسمانی، دلائل کی رو سے راجح مسئلہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جسمانی اور بیداری کی حالت میں ہوئی تھی۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر دو مرتبہ ہوا۔ (۱) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلیمہ سعدیہ کے ہاں پرورش پا رہے تھے۔ (۲) معراج سے قبل اور شق صدر سے مقصود آپ کی روحانی (طہارت) تھی۔
➌ نماز پنجگانہ معراج کی رات فرض ہوئی، جس میں نماز کی اہمیت و فضیلت کا عظیم بیان ہے، کیونکہ دیگر فرائض بالواسطہ عائد ہوتے تھے اور نماز کی فرضیت بلا واسطہ ہوئی جو نماز کی فضیلت و اہمیت کی دلیل ہے۔
➍ حکماً پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن اجر و ثواب کے لحاظ سے یہ پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔
➎ نماز پنجگانہ کی فرضیت سے قبل، کتنی نمازیں فرض تھیں، اس کے بارے میں کوئی واضح نص موجود نہیں، البتہ قرآنی آیات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان صبح و شام نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرتے تھے۔
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج، نیند کی حالت میں ہوئی یا بیداری کی، روحانی معراج ہوئی یا جسمانی، دلائل کی رو سے راجح مسئلہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جسمانی اور بیداری کی حالت میں ہوئی تھی۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر دو مرتبہ ہوا۔ (۱) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلیمہ سعدیہ کے ہاں پرورش پا رہے تھے۔ (۲) معراج سے قبل اور شق صدر سے مقصود آپ کی روحانی (طہارت) تھی۔
➌ نماز پنجگانہ معراج کی رات فرض ہوئی، جس میں نماز کی اہمیت و فضیلت کا عظیم بیان ہے، کیونکہ دیگر فرائض بالواسطہ عائد ہوتے تھے اور نماز کی فرضیت بلا واسطہ ہوئی جو نماز کی فضیلت و اہمیت کی دلیل ہے۔
➍ حکماً پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن اجر و ثواب کے لحاظ سے یہ پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔
➎ نماز پنجگانہ کی فرضیت سے قبل، کتنی نمازیں فرض تھیں، اس کے بارے میں کوئی واضح نص موجود نہیں، البتہ قرآنی آیات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان صبح و شام نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 302]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 302 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← مالك بن صعصعة المازني