🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2148. ‏(‏407‏)‏ باب حج الرجل عن المرأة التى لا تستطيع الحج من الكبر
اگر عورت بڑھاپے کہ وجہ سے حج نہ کرسکتی ہو تو اس کے بدلے مرد حج کرسکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: السَّائِلُ سَأَلَ عَنْ أُمِّهِ.
سیدہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے صرف یہ فرق ہے کہ اس روایت میں ہے کہ ایک سائل نے اپنی والدہ کے بارے میں سوال کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3038]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3037، 3038، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1773»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← محمد بن سيرين الأنصاري
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥يحيى بن أبي الحجاج الأهتمي، أبو أيوب
Newيحيى بن أبي الحجاج الأهتمي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
مقبول
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن منصور الخزاعي ← يحيى بن أبي الحجاج الأهتمي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 3038 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 3038
فوائد:
➊ طاقتور سواری کے پیچھے کسی آدمی کو سوار کرنا جائز ہے۔
➋ فتویٰ طلبی کے وقت اجنبی عورت کی آواز سننا جائز ہے۔
➌ جو شخص برائی کو ہاتھ سے روک سکتا ہے اسے برائی کو ہاتھ سے روکنا چاہیے۔
➍ بڑھاپے، مرض یا موت کی وجہ سے عاجز شخص کی طرف سے حج کی نیابت کرنا جائز ہے۔
➎ عورت مرد کی طرف سے حج کا فریضہ انجام دے سکتی ہے۔
➏ والدین کی طرف سے قرض ادا کر کے، ان کی خدمت انجام دے کر، ان پر خرچ کر کے اور ان کی طرف سے حج ادا کر کے ان پر نیکی کا فریضہ سرانجام دیا جاسکتا ہے۔
➐ جو شخص حج کرنے سے عاجز ہو لیکن کسی دوسرے شخص کے ذریعے یہ فریضہ ادا کرسکتا ہے تو اس پر حج واجب ہے۔ [شرح النووي: 9/ 98]
➑ میت کی طرف سے اس کے ذمے واجب حج ادا کرنا واجب ہے، خواہ اس نے اس کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو کیونکہ قرض کی ادائیگی مطلق واجب ہے۔
➒ ابن عباس، زید بن ثابت، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور شافعی رحمہ اللہ اسی موقف کے قائل ہیں اور حج کی رقم راس المال سے نکالنا واجب ہے۔ [فقه السنة: 1/ 561]
➓ جو شخص حج کی ادائیگی کی طاقت رکھتا ہو، پھر وہ بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے حج ادا کرنے سے قاصر ہو تو کسی اور سے اپنا حج کروانا لازم ہے۔ کیونکہ وہ از خود حج سے مایوس ہو چکا ہے اور میت کے حکم میں داخل ہے۔ لہٰذا اس سے نائب مقرر کرنا جائز ہے۔ [فقه السنة: 1/ 561]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3038]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3038 in Urdu